بنگلادیش میں سیاسی انقلاب، بی این پی اتحاد کی تاریخی فتح
Bangladesh election results 2026
فائل فوٹو
ڈھاکا:(ویب ڈیسک) بنگلادیش کے حالیہ عام انتخابات میں اپوزیشن اتحاد نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملکی سیاست کا نقشہ بدل دیا۔

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے اتحاد نے 300 میں سے 211 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے، جس کے بعد نئی حکومت بنانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان نے اپنی دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ عوام نے ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، جلد نئی حکومت تشکیل دیں گے۔

انتخابی نتائج کے مطابق جماعت اسلامی کے 11 جماعتی اتحاد نے 70 نشستیں حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ طلبہ تحریک کی جماعت این سی پی 3 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ اس کے علاوہ 3 آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے، جبکہ بنگلادیش جاتیہ پارٹی اور اسلامی اندولن بنگلادیش نے 1، 1 نشست حاصل کی، حتمی نتائج کا اعلان بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کی جانب سے آج متوقع ہے۔

عام انتخابات کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک اہم قومی ریفرنڈم بھی منعقد ہوا، جس میں عوام نے آئینی اصلاحات پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق 72.9 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 27.1 فیصد نے مخالفت کی۔

یہ بھی پڑھیں:طیارے پر فائرنگ کے نتیجے میں 2 پائلٹ جاں بحق

 

 

 

اس ریفرنڈم میں 4 بڑی آئینی ترامیم سمیت تقریباً 30 اصلاحات پر عوامی رائے لی گئی، جن میں نئے آئینی اداروں کا قیام، پارلیمنٹ کو دو ایوانوں پر مشتمل بنانا اور آئینی ترمیم کیلئے ایوان بالا کی منظوری لازمی قرار دینا شامل ہے۔

بنگلادیش بھر میں ووٹنگ کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 06:30 ہوا اور سہ پہر 03:30 بجے تک جاری رہا۔ اس دوران 12 کروڑ 76 لاکھ سے زائد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ایک حلقے میں امیدوار کی وفات کے باعث انتخابات ملتوی کر دیے گئے۔

بنگلادیشی میڈیا کے مطابق انتخابی عمل مجموعی طور پر پرامن رہا، تاہم چند ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے۔ گوپال گنج میں پیٹرول حملے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوئے جبکہ مبینہ دھاندلی کے الزامات پر انتخابی عملے کے 3 ارکان کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا۔