پنجاب یونیورسٹی میں آسا اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا معطل اساتذہ سے اظہارِ یکجہتی
اس موقع پر اساتذہ نے پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد اور پروفیسر ڈاکٹر محمد اظہر نعیم، کی معطلی اور وائس چانسلر کے مبینہ انتقامی رویے کے خلاف احتجاجاً سیاہ پٹیاں باندھ کر اپنے فرائض انجام دیے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر سردار اصغراقبال اور آسا کے جنرل سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد نے کہا کہ اساتذہ کی معطلی اور ان کے خلاف انتقامی اقدامات قابلِ مذمت ہیں۔
وائس چانسلر کی مبینہ فسطائیت اور انتقامی طرزِ عمل پر مبنی ان اوچھے ہتھکنڈوں سے اساتذہ کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی اور غیر منصفانہ احکامات کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی اور اساتذہ کے حقوق، وقار اور آزادیِ اظہار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
رہنماؤں نے کہا کہ اساتذہ کی معطلی کے معاملے پر جامعہ کے تعلیمی ماحول اور انتظامی شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ اساتذہ برادری قانون کی بالادستی، عدالتی فیصلوں کے احترام اور انتظامی اختیارات کے منصفانہ استعمال کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 29 اکتوبر 2026ء کو صبج 10:00 بجے الرازی ہال میں آسا کی جنرل باڈی کا اجلاس منعقد ہوگا، جس میں اساتذہ کے چارٹر آف ڈیمانڈ، معطل پروفیسرز کی بحالی اور یونیورسٹی کے مختلف مالی و انتظامی معاملات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اپنے جائز حقوق کے تحفظ، جامعہ کے وقار اور تعلیمی آزادی کے لیے متحد رہیں گے اور ہر قسم کے انتقامی اقدامات کے خلاف آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔