دہشت گردی کے خلاف متفقہ پلان بنائیں تو کے پی میں ایمرجنسی ختم ہوسکتی ہے، بلاول بھٹو
کراچی میں سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر جائے حادثہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک میں خیبر سے خضدار تک دہشت گرد حملے ہورہے ہیں، جس کے باعث قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔
بلاول بھٹو کا یہ بیان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج سے متعلق پیش رفت کے بعد سامنے آیا۔ انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے دور میں افغانستان سے ٹی ٹی پی کے ارکان کی واپسی اور آبادکاری کے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان آج ان فیصلوں کے نتائج بھگت رہا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج، پولیس اور عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور ملک کے کسی بھی حصے سے قومی پرچم اتارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی سے مذاکرات؟ حکومت کا موقف سامنے آگیا
ان کا کہنا تھا کہ اگر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو پیپلز پارٹی یہ ذمہ داری ادا کرے گی۔
مولانا فضل الرحمان سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ چاہیں تو خیبرپختونخوا سے ایمرجنسی ختم کرانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی پیش رفت اور بڑی اصلاحات کے لیے مفاہمت اور سمجھوتا ضروری ہوتا ہے، جبکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کو بھی سیاسی اتفاقِ رائے کی مثال قرار دیا۔
گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے معاملے پر بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر اس حوالے سے اتفاقِ رائے موجود ہے تو نئے صوبے کے قیام کی جانب پیش رفت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین میں طے شدہ طریقۂ کار پر عمل کرنا ضروری ہے۔