افغان طالبان کے دعوے پر رائٹرز کی رپورٹنگ بھی سوالات کی زد میں آگئی
سرکاری ذرائع کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے دعوؤں کو بعض میڈیا رپورٹس میں بغیر مکمل شواہد اور آزادانہ تصدیق کے نشر کیا گیا، جس سے واقعے کے حوالے سے متعدد سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری کی گئی تصاویر میں ہلاک افراد مقامی افغان باشندے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ان کے لباس اور دیگر ظاہری شواہد بھی اس دعوے پر سوالات اٹھاتے ہیں کہ وہ پاکستان سے آنے والے جنگجو تھے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اگر ہلاک ہونے والے افراد میں پاکستانی شہری شامل تھے تو ان کی شناخت، نام، شہریت اور دیگر قابلِ تصدیق شواہد سامنے لائے جانے چاہئیں۔ ذرائع نے سوال اٹھایا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردوں کی دراندازی کے شواہد اور ٹی ٹی پی سمیت دیگر عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو بھی عالمی میڈیا میں یکساں اہمیت کیوں نہیں دی جاتی۔
پاکستانی حکام ماضی میں ٹی ٹی پی کے دہشت گرد حملوں میں ]ملوث 260 افغان شہریوں کے نام اور پتے فراہم کرنے کا دعویٰ کر چکے ہیں، جبکہ افغان طالبان کمانڈروں کی ٹی ٹی پی جنگجوؤں کے جنازوں میں شرکت کے شواہد بھی پاکستانی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا کہ 2026 میں افغان سرحد سے آنے والے دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں 1,327 پاکستانی جاں بحق جبکہ 2,484 زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کے ساتھ جنگ اور مذاکرات دونوں کیلئے تیار ہے، عباس عراقچی
ذرائع کے مطابق افغان طالبان حکومت خود بھی مختلف مواقع پر بدخشان، نورستان اور کنڑ میں اندرونی کشیدگی اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کا اعتراف کر چکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں مختلف مزاحمتی اور عسکری گروہوں کی موجودگی کے باعث کسی بھی واقعے کی ذمہ داری فوری طور پر پاکستان پر عائد کرنے سے قبل جامع تحقیقات ضروری ہیں۔
پاکستانی سرکاری ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ نورستان اور کنڑ میں جاری کشیدگی کے پسِ پردہ مقامی وسائل اور معدنیات سمیت مختلف عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں، اس لیے ان علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کو صرف پاکستان سے جوڑنا درست تصویر پیش نہیں کرتا۔
ذرائع نے عالمی میڈیا سے مطالبہ کیا کہ افغانستان سے متعلق حساس نوعیت کے دعوؤں کی اشاعت سے قبل تمام فریقوں کا مؤقف، زمینی شواہد اور آزادانہ تصدیق شامل کی جائے تاکہ کسی بھی فریق کے یکطرفہ بیانیے کو خبر کے طور پر پیش کرنے سے گریز کیا جا سکے۔
پاکستانی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا یا فالس فلیگ کارروائیوں کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کا حقائق اور شواہد کی بنیاد پر جواب دیا جائے گا۔