ایمان مزاری کیس: اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو شوکاز نوٹس جاری
اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے ضمانت کی درخواستیں دائر کرنے کیلئے وکالت نامے پیش نہ کیے جانے کے معاملے کی سماعت کی۔
عدالت کے مطابق اڈیالہ جیل حکام آج بھی دونوں وکلا کے وکالت ناموں پر دستخط کرا کر فراہم نہیں کرسکے، جبکہ جیل حکام کی جانب سے کوئی نمائندہ بھی عدالت میں پیش نہیں ہوا۔
عدالت کے حکم کے باوجود ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے بھی پیش نہیں کیا جاسکا۔ عدالتی عملے نے بتایا کہ جیل حکام انٹرنیٹ کے مسئلے کو وجہ قرار دے رہے ہیں۔ اس پر جج طاہر عباس سپرا نے جیل انتظامیہ سے وضاحت طلب کی۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ سپرنٹنڈنٹ جیل جواب دیں کہ ان کے خلاف چھ ماہ کی سزا کیوں نہ دی جائے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ وکالت نامہ ملنا زیرِ حراست ملزم کا بنیادی حق ہے۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی نہ ہونے کی وجہ انٹرنیٹ کا مسئلہ بتایا گیا ہے۔ جج نے کہا کہ اس سے قبل بھی جیل میں انٹرنیٹ کے مسئلے کی شکایات سامنے آچکی ہیں اور متعلقہ اداروں کے ماہرین کو جیل کا دورہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان کی نظر بندی سے متعلق درخواست سماعت کیلئے مقرر
واضح رہے کہ اس سے قبل عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستیں وکالت نامے مکمل نہ ہونے کے باعث واپس کردی تھیں۔ بعد ازاں جیل حکام کو وکالت ناموں پر دستخط اور قانونی کارروائی مکمل کرنے سے متعلق ہدایات بھی دی گئی تھیں۔
عدالت نے توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی۔