فیول ریلیف اسکیم خطرے میں، ڈیلرز کا عمل درآمد سے انکار
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وائس چیئرمین پی پی ڈی اے انوار کمال نے کہا کہ ریلیف اسکیم کی تیاری میں ڈیلرز سے مشاورت نہیں کی گئی، موجودہ طریقہ کار پر عمل درآمد مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو براہ راست اور آسان طریقے سے ریلیف دیا جائے، ڈیلرز کا سرمایہ پہلے ہی مہنگائی سے متاثر ہے جب کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اربوں روپے کے واجبات بھی زیرِ التوا ہیں۔
انوار کمال کا کہنا تھا کہ ریلیف اسکیم کا مالی بوجھ ڈیلرز پر ڈالنا قابلِ عمل نہیں، ڈیلرز مارجن میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں، حکومت کی موجودہ ریلیف اسکیم کے تحت پیٹرول نہیں دیں گے۔
وائس چیئرمین پی پی ڈی اے نے مزید کہا کہ سستے پیٹرول کی رقم حکومت ڈیلرز کو کیسے ادا کرے گی؟ تین دن سے حکومت سے رابطہ کر رہے ہیں مگر تاحال کوئی جواب نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک ماہ میں پیٹرول 59 روپے، ڈیزل 32 روپے مہنگا
چیئرمین پی پی ڈی اے ملک خدا بخش نے کہا کہ حکومت نے ریلیف اسکیم پر مالی تحفظ کی گارنٹی نہ دی تو اسکیم پر عملدرآمد ممکن نہیں ہوگا اور ریلیف اسکیم پر زبردستی عملدرآمد کرایا گیا تو ملک بھر کے تمام پٹرول پمپس بند کردیں گے۔
ملک خدا بخش کا کہنا تھا کہ 12 سے 14 ہزار پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ساتھ شامل ہیں، عوام کو ریلیف دینے کے نام پر ڈیلرز کا سرمایہ داؤ پر لگانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ریلیف اسکیم ڈیلرز کے لیے مالی خطرہ ہے، اسکیم تیار کرتے وقت ڈیلرز سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ ڈیلرز کے اربوں روپے پھنسنے کی صورت میں نقصان کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟
پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ریلیف اسکیم کے موجودہ طریقہ کار پر فوری نظرثانی کرے اور ڈیلرز کا سرمایہ پھنسنے کی صورت میں مالی تحفظ کی ضمانت فراہم کرے۔
ملک خدا بخش نے حکومت سے پٹرولیم ڈیلرز کا منافع بڑھا کر 8 فیصد کرنے اور روزانہ قیمتیں تبدیل کرنے کے بجائے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 30 روز کے لیے مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔