10 روپے کا نوٹ کیوں بند ہو رہا ہے؟ وجہ سامنے آگئی
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں 10 روپے کے کرنسی نوٹ کی جگہ اسی مالیت کا سکہ لانے کی سٹیٹ بینک کی تجویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران حکام نے بتایا کہ اس تجویز کا بنیادی مقصد کرنسی کی تیاری کے اخراجات کو کم کرنا ہے۔
سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر عنایت حسین نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں 10 روپے کا ایک نوٹ تیار کرنا اس کی مالیت سے زیادہ مہنگا پڑ رہا ہے۔ اسی وجہ سے مرکزی بینک نے مستقبل میں 10 روپے کے نوٹ کی طباعت روکنے اور اس کے متبادل کے طور پر 10 روپے کا سکہ جاری کرنے کی سفارش کی ہے۔
ڈپٹی گورنر کے مطابق اگر سٹیٹ بینک کی یہ تجویز منظور ہوجاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ عوام کے پاس موجود 10 روپے کے نوٹ فوری طور پر ناقابل استعمال ہوجائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مارکیٹ میں پہلے سے گردش کرنے والے 10 روپے کے نوٹ اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھیں گے، جبکہ نئے کرنسی نوٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ مستقبل کی طباعت سے متعلق ہوگا۔
واضح رہے کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے ماضی میں بھی 10 روپے کا سکہ متعارف کرایا جاچکا ہے، تاہم اسے عوامی سطح پر خاطر خواہ پذیرائی نہیں مل سکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:سانحہ پمز، حکومت کا لواحقین کیلئے فی کس 50 لاکھ روپے امداد کا اعلان
اب مرکزی بینک کی جانب سے دوبارہ 10 روپے کے سکے کو متعارف کرانے کی تجویز سامنے آنے کے بعد اس پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں غور کیا جارہا ہے۔ تجویز کی منظوری کی صورت میں مستقبل میں 10 روپے کی لین دین کیلئے سکے کا استعمال بڑھنے کا امکان ہے۔