جماعت اسلامی کا 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان
لاہور کے مال روڈ پر چیرنگ کراس کے مقام پر جماعت اسلامی کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کارکنوں سے کہا کہ وہ اپنے عزائم پختہ رکھیں، کیونکہ جماعت اسلامی 25 کروڑ عوام کا مقدمہ لے کر دھرنے میں بیٹھی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے پمز ہسپتال کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ہسپتال میں فائر الارم کیوں موجود نہیں تھا اور ہنگامی صورتحال میں عملے نے کیا اقدامات کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پمز واقعے میں صرف سیکرٹری کو معطل کرنا کافی نہیں بلکہ ذمہ داروں کا تعین کرکے مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی گئی ہے اور اب عوام کے بچوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر بھی الزام عائد کیا کہ پنجاب کے 11 ہزار اسکول اور سینکڑوں ہیلتھ یونٹس فروخت کیے گئے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ایک مؤثر تحریک کا آغاز ہوچکا ہے اور نوجوان بھی اس کا حصہ بن رہے ہیں، 3 ستمبر کو پورے ملک میں ہڑتال کی جائے گی، جسے کامیاب بنانے کیلئے نوجوانوں، تاجروں اور عوام سے تعاون کی اپیل کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کی ہڑتال پرامن ہوگی۔ ان کے مطالبات میں پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کا خاتمہ اور آئی پی پیز کیخلاف کارروائی شامل ہے، ان کا کہنا تھا کہ مہنگی بجلی کے باعث تاجر، صنعتکار اور دیگر طبقات شدید پریشان ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک گیر ہڑتال کے بعد اسلام آباد مارچ کی کال دی جائے گی، جب پنجاب کے مزدور، کسان، طلبہ اور وکلا میدان میں نکلیں گے تو حکومت کو عوامی مطالبات تسلیم کرکے پیچھے ہٹنا پڑے گا۔