پی ٹی آئی رہنماؤں کی مبینہ آڈیو لیک، ایک دوسرے پر الزامات
مبینہ آڈیو میں مشعال یوسفزئی نے الزام عائد کیا ہے کہ سازش اور گروپ بندی کے ذریعے ایسے وکلاء کو ممبر بنایا گیا جن کا آئی ایل ایف سے تعلق نہیں تھا، ان کا کہنا تھا کہ بعض افراد نے اپنی فیسیں بڑھائیں اور کروڑوں روپے کی کنسلٹنسی حاصل کی۔
مشال یوسفزئی نے سلمان اکرم راجا کی شلوار اتار کر دروازے پر ٹانگ دی
— Adv Madiha Shah (@MadihaShah_adv) August 10, 2026
سلمان اکرم راجا بری طرح بے نقاب
پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائی جاری ۔ سب کچھ عوام کے سامنے بے نقاب ہورہا ہے@salmanAraja @yousafzai_62 pic.twitter.com/cqAkEp1tct
مشعل یوسفزئی نے مبینہ گفتگو میں کہا کہ پریشر ہار کونسل کے ارکان نے بنانا ہے، جنہیں پیسے لے کر ٹکٹ دیے گئے۔
جواب میں سلمان اکرم راجہ نے الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کھلی کتاب ہے، کوئی بتائے کہ انہوں نے کون سی سازش کی ہے۔
مبینہ آڈیو میں سلمان اکرم راجہ نے مشعال یوسفزئی سے سوال کیا کہ ان کی سازش کیا ہے اور انہوں نے کون سا ایسا کام کیا جس پر انگلی اٹھائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کا پارلیمان میں حکومت سے تعاون نہ کرنے کا فیصلہ
انہوں نے مزید کہا کہ بار کونسل کے ارکان کہاں ہیں؟ ان کے بقول بانی چیئرمین کے اکاؤنٹ کو استعمال کرکے اپنے حق میں ٹوئٹس کیے گئے اور سازشیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ سامنے آنے والی گفتگو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی اس مبینہ آڈیو کی مکمل تفصیلات یا پس منظر فوری طور پر واضح ہے۔