آزاد کشمیر انتخاب: مریم نواز کا سوال، قیامت کتنے بجے ہے؟
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا کہ اب دھاندلی کا رونا رونے کے بجائے اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے، انکا کہنا تھا کہ اگر عوامی خدمت اور بہتر حکمرانی ہوتی تو دوسروں پر الزامات لگانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
x.com/SaifSolicitor/status/2082366561105432646/photo/1
انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آزاد کشمیر میں انتخابی شکست تسلیم کریں اور سندھ کی عوام کو درپیش مسائل کے حل پر توجہ دیں۔ مریم نواز کے مطابق سندھ میں طویل عرصے کی حکومت کے باوجود عوام کو نمایاں ریلیف نہیں مل سکا جبکہ آزاد کشمیر کی عوام نے ترقیاتی منصوبوں، امن و امان اور عوامی فلاح کے ایجنڈے پر اعتماد ظاہر کیا۔
https://x.com/i/status/2082109802365542632
PMLN (@pmln_org) July 28, 2026
دوسری جانب چیئرمین پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ (ن) لیگ کا مفاد اہم ہے یا پاکستان کا؟ انہوں نے کیا کہ میرپور کی عوام نے پیپلز پارٹی کو اکثریت دی ہے اور ان کی جماعت عوام کے ووٹ کا تحفظ کرے گی۔
سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی بعض پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی بے ضابطگیوں، پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالنے اور مبینہ جعلی ووٹنگ کے الزامات عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما ملک مختار اعوان انتقال کرگئے
ادھر پاکستان تحریک انصاف نے بھی آزاد کشمیر کے انتخابات مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انتخابی عمل شفاف نہیں تھا اور عوامی مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا گیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ نتائج عوامی رائے کے مطابق نہیں ہیں۔