پی یو اکیڈمک سٹاف کا یونیورسٹی کی بگڑتی مالی صورتحال پر تحفظات کا اظہار
آسا کے عہدیداران نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے 9 جولائی کو منعقد ہونے والے اجلاس میں پیش کیا گیا بجٹ یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 3.68 ارب روپے کے تاریخی خسارے پر مشتمل بجٹ تھا۔
عہدیداران کا کہنا تھا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس خسارے کی وجوہات، مالی نظم و نسق اور اصلاحی اقدامات پر یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کوئی سنجیدہ حل تجویز نہیں کیا گیا اور نہ ہی اساتذہ ، ملازمین اور طلبہ و طالبات کی بہتری کے لیے کوئی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
آسا کی طرف سے اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ گزشتہ 14 ماہ کے دوران یونیورسٹی کے تقریباً 4.88 ارب روپے کے کیش ریزروز خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ ون اکاؤنٹ پالیسی کے تحت سیلف سپورٹنگ پروگرامز سے حاصل ہونے والا تقریباً ایک ارب روپے بھی استعمال ہو چکا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں یونیورسٹی کی مالی حالت اپنی تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس کے فوری تدارک کی ضرورت ہے۔
اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے مزید نشاندہی کی کہ مالی سال 2025-26 کا سیلف سپورٹنگ بجٹ پہلی مرتبہ تقریباً 35 کروڑ روپے کے خسارے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
اجلاس کے مطابق غیر متوازن انتظامی پالیسیاں، مالی معاملات کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر نہ چلانا، سیلف سپورٹنگ پروگرامز کا انتظام تدریسی شعبہ جات سے واپس لے کر مرکزی دفاتر میں منتقل کرنا، اور شعبہ جات کی ادارہ جاتی خودمختاری و احساسِ ملکیت کو کمزور کرنا اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اس کے نتیجے میں طلبہ کے داخلوں میں نمایاں کمی آئی، آمدن کے تخمینے پورے نہ ہو سکے جبکہ اخراجات مسلسل بڑھتے رہے۔
پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن نے حکومت پنجاب اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کی مالی اور انتظامی پالیسیوں کا فوری، آزادانہ اور جامع جائزہ لیا جائے، مالی نظم و نسق کو پیشہ ورانہ اور شفاف بنیادوں پر استوار کیا جائے۔
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ تدریسی شعبہ جات کو ان کا مؤثر کردار اور انتظامی اختیار واپس دیا جائے تاکہ یونیورسٹی کو مزید مالی بحران سے بچایا جا سکے اور اس کے علمی وقار کو بحال رکھا جا سکے۔