وراثت سے محروم خواتین کے حق میں سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
جسٹس شاہد بلال حسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نور محمد کی اپیل پر 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے قرار دیا کہ وراثت کسی کی مہربانی نہیں بلکہ خواتین کا شرعی اور قانونی حق ہے جسے کسی بھی بہانے سے سلب نہیں کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق 1955 میں والد کے انتقال کے بعد دو بھائیوں نے زبانی ہبہ کا دعویٰ کرتے ہوئے پوری جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی اور والدہ و بہنوں کو وراثت سے محروم کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کے دوبارہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
سپریم کورٹ نے حالیہ فیصلے میں کہا کہ خواتین کو جائیداد سے محروم کرنے کے لیے جعلی ہبہ، فرضی انتقال، دھوکہ دہی، خاندانی دباؤ یا فرسودہ رسم و رواج کا سہارا لینا قابل قبول نہیں ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق نہ علامتی ہیں اور نہ ہی اختیاری بلکہ ان پر عملدرآمد قانون کی زمہ داری ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ زبانی ہبہ ثابت کرنے کی زمہ داری بھی اسی فریق پر عائد ہوتی ہے جو اس دعوے سے فائیدہ اٹھانا چاہتا ہو جبکہ ٹرائل کورٹ نے اس اصول کو نظر انداز کرتے ہوئے قانون کے برعکس ہبہ کے دعوے کو ہی ثبوت مان لیا جو کہ درست طرز عمل نہیں تھا۔
سپریم کورٹ نے متعلقہ اپیل منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے تمام فیصلے کالعدم قرار دے دیے اور متعلقہ ریونیو احکام کو وراثتی ریکارڈ فوری طور پر قانون کے مطابق درست کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔