کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر گھر میں کھلا تھا، سکول یا اکیڈمی نہیں تھی: وزیرتعلیم
وزیر تعلیم رانا سکندر کا کہنا تھا کہ ٹیچر ایک پسماندہ علاقے میں اپنے گھر میں محلے کے بچوں کو پڑھا رہی تھی، معصوم بچوں کی ہلاکت ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ مالک مکان کی غفلت اور مکان کی خستہ حالی کے باعث پیش آیا۔واقعہ جان بوجھ کر کرنے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ کاہنہ میں گھر کے اندر قائم ٹیوشن سنٹر میں خستہ حال چھت گرنے کے واقعہ کی وزیراعلیٰ پنجاب خود مانیٹرنگ کر رہی ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ہسپتالوں میں ادویات یا ڈاکٹرز کی کمی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے جبکہ ہیوی مشینری احتیاط کے پیش نظر استعمال نہیں کی گئی تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر طرح کی ذمہ داری لینے کو تیار ہے تاہم یہ نجی ملکیت میں قائم ٹیوشن سنٹر تھا اور اسی وجہ سے حکومتی نگرانی محدود تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق
یاد رہے گزشتہ روز لاہو ر کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، خاتون ٹیچر اور 8 بچے زخمی ہوئے، اکیڈمی میں موجود دیگر بچے معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
کاہنہ کے علاقہ کچوانہ میں شام ساڑھے 4 بجے کے قریب ایک 6 مرلے کے گھر میں قائم اکیڈمی میں 30 سے 35 بچے ٹیوشن پڑھ رہے تھے جبکہ ٹی آر اور گارڈر پر مشتمل چھت پر مٹی ڈالی جارہی تھی جس کیلئے مزدور کام کر رہے تھے۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایک گارڈر وزن برداشت نہ کرسکا اور چھت اچانک بچوں پر آگری، حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا، ملبے تلے بچوں کے دبے ہونے کی اطلاع پر والدین اور دیگر رشتہ دار دھاڑیں مار کر روتے رہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق اس سانحہ کی اطلاع شام 4:43 بجے ملی ، ریسکیورز نے فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کرتے ہوئے 30 سالہ ٹیچر سمیت 19 افراد کو انتہائی تشویشناک حالت میں ملبے سے نکالا اور سی پی آر دیتے ہوئے قریبی ہسپتال منتقل کیا۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہسپتال ذرائع کے مطابق 14 زخمی جاں بحق ہو گئے ۔جاں بحق بچوں کی عمریں 4 سے 12 سال بتائی جاتی ہیں، ٹی ایچ کیو ہسپتال کاہنہ میں 6 بچوں اور 30سالہ ٹیچر حمیدہ ریحان کو طبی امداد فراہم کی گئی۔