اخلاق سیکھیں امام حسینؓ سے، قرآن و سنت کی روشنی میں امام حسینؓ کے بلند کردار کی چند جھلکیاں
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم ﷺ کے محبوب نواسے تھے۔ آپ کی زندگی کا ہر پہلو قرآنِ کریم کی تعلیمات اور نبی کریم ﷺ کی سنت کا آئینہ دار تھا۔ آپ کے حسنِ اخلاق، صبر، سخاوت، عاجزی اور حق پر استقامت نے آپ کو امت کے لیے ایک روشن نمونہ بنا دیا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا:﴿وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللّٰهِ﴾(سورۃ النحل: 127)
’’صبر کرو، اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔‘‘
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی صبر اور رضا کا پیکر تھی۔ خصوصاً کربلا کے میدان میں آپ نے جس صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے کا مظاہرہ کیا، وہ اس قرآنی تعلیم کی عملی تفسیر تھا۔
آپ نہایت نرم دل اور بردبار تھے۔ اگر کوئی سختی سے پیش آتا تو آپ حلم اور عفو سے کام لیتے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾(سورۃ آل عمران: 134)
’’جو غصے کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کر دینے والے ہیں، اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔‘‘
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور غریبوں سے محبت بھی مشہور تھی۔ آپ ضرورت مندوں کی مدد کو سعادت سمجھتے تھے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:﴿وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا﴾(سورۃ الدہر: 8)
’’اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔‘‘
عاجزی اور انکساری آپ کی نمایاں صفات میں سے تھیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا﴾(سورۃ الفرقان: 63)
’’رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں۔‘‘
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی زندگی میں یہ وصف نمایاں نظر آتا ہے۔ بلند نسب اور عظیم مقام کے باوجود آپ عام لوگوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کو اپنے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما سے بے حد محبت تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:»اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا«(صحیح بخاری، حدیث: 3747)
’’اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما۔‘‘
ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: »حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ«(جامع ترمذی، حدیث: 3768)
’’حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:»حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا«(جامع ترمذی، حدیث: 3775)
’’حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس شخص سے محبت فرمائے جو حسین سے محبت کرے۔‘‘؎
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے حق اور انصاف کے لیے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلّٰهِ﴾(سورۃ النساء: 135)
’’اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بن جاؤ۔‘‘
کربلا میں آپ کی عظیم قربانی اسی قرآنی حکم کی ایک روشن مثال ہے۔ آپ نے باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق پر قائم رہنا پسند کیا اور اپنی جان قربان کرکے امت کو یہ پیغام دیا کہ عزت، سچائی اور دین کی سربلندی ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔
بلاشبہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی زندگی قرآن و سنت کی خوشبو سے معطر تھی۔ ان کے اخلاق، کردار، عبادت، سخاوت، صبر اور حق پسندی میں رسول اللہ ﷺ کی تربیت اور قرآن کریم کی تعلیمات نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ اسی لیے آپ کی سیرت آج بھی ہر مسلمان کے لیے ہدایت، محبت اور عمل کا روشن چراغ ہے۔
تحریر و تحقیق: محمد حسنین رضا
(اسلامی اسکالر، محقق، اور کالم نگار)