آغوشِ نبوت سے میدانِ کربلا تک، امام حسینؓ کی ایمان افروز داستان
رسولِ اکرم ﷺ کو اپنے اس نواسے سے بے پناہ محبت تھی۔ ابھی امام حسین رضی اللہ عنہ بچپن ہی میں تھے کہ ایک دن وہ دوڑتے ہوئے نانا جان ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کی مبارک گود میں بیٹھ گئے۔ اسی دوران حضرت جبرئیل علیہ السلام بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ایک ایسی خبر سنائی جسے سن کر دل کانپ اٹھتا ہے۔ عرض کیا:
"یا رسول اللہ! آپ کی امت آپ کے اس پیارے نواسے کو شہید کر دے گی۔"
پھر انہوں نے اس سرزمین کا نام بھی بتایا جہاں یہ عظیم قربانی پیش آنی تھی اور وہاں کی مٹی بھی پیش کی۔ یوں ابھی امام حسین رضی اللہ عنہ بچپن ہی میں تھے کہ ان کی شہادت کی خبر آسمانوں سے زمین تک پہنچ چکی تھی۔
رسولِ رحمت ﷺ کی محبت کا عالم بھی نرالا تھا۔ ایک دن آپ ﷺ کے دائیں زانو پر امام حسین رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے اور بائیں زانو پر آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے۔ اسی دوران حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو زیادہ عرصہ ایک ساتھ آپ کے پاس نہیں رکھے گا، ان میں سے ایک کو منتخب فرما لیجیے۔
محسنِ انسانیت ﷺ نے اپنے پیارے نواسے حسین رضی اللہ عنہ کی جدائی کو گوارا نہ فرمایا۔ چند دن بعد حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا وصال ہوگیا۔ اس کے بعد جب بھی امام حسین رضی اللہ عنہ سامنے آتے تو نبی کریم ﷺ انہیں سینے سے لگاتے، بوسہ دیتے اور محبت سے فرماتے:
"میں اس پر قربان ہوں جس پر میں نے اپنے بیٹے ابراہیم کو قربان کیا۔"
امام حسین رضی اللہ عنہ کی شخصیت سراپا نور تھی۔ بزرگوں نے بیان کیا ہے کہ جب رات کی تاریکی میں آپ تشریف فرما ہوتے تو آپ کی مبارک پیشانی اور رخساروں سے ایسی نورانی کرنیں پھوٹتیں کہ اردگرد کا ماحول روشن ہوجاتا۔
شکل و صورت اور جسامت میں بھی آپ اپنے نانا جان ﷺ سے بے حد مشابہ تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص گردن سے نیچے تک رنگ و جسامت میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ ہستی کو دیکھنا چاہے، وہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھ لے۔
وقت گزرتا گیا اور وہ دن قریب آگیا جس کی خبر فرشتے برسوں پہلے دے چکے تھے۔ 10 محرم 61 ہجری کو سرزمینِ کربلا میں حق اور باطل کا ایک ایسا معرکہ برپا ہوا جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ، آپ کے اہلِ بیت اور جاں نثار ساتھیوں نے بھوک اور پیاس کی حالت میں ظلم اور باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اللہ کی رضا کے لیے اپنی جانیں قربان کردیں۔
اگرچہ یومِ عاشورہ بہت سے عظیم واقعات کی وجہ سے اہم تھا۔ اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری، حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملی، لیکن تاریخ میں اس دن کو سب سے زیادہ شہرت اس نسبت سے حاصل ہوئی کہ اسی دن نواسۂ رسول، سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے حق کی سربلندی کے لیے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
آج بھی جب کربلا کا نام لیا جاتا ہے تو انسان کے ذہن میں ایک ہی پیغام گونجتا ہے:
سر کٹایا تو جا سکتا ہے، مگر باطل کے آگے سر جھکایا ج نہیں ا سکتا۔
مراجع و مصادر
اس مضمون کی تیاری میں "المعجم الکبیر للطبرانیؒ"، "تاریخ بغداد" از خطیب بغدادیؒ، "شواہد النبوۃ" از علامہ جامیؒ اور دیگر مستند کتبِ سیرت و فضائلِ اہلِ بیت سے استفادہ کیا گیا ہے۔
تحریر و تحقیق: محمد حسنین رضا
(اسلامی اسکالر، محقق، اور کالم نگار)