خانہ کعبہ اندر سے خالی نہیں، حیرت انگیز معلومات کم لوگ جانتے
کعبۃ اللہ قریباً 180 مربع میٹر رقبے پر محیط ہے۔ اس کی چھت لکڑی کے تین مضبوط ستونوں پر قائم ہے۔ یہ ستون عام ستون نہیں، بلکہ صدیوں پرانی تاریخ کے امین ہیں۔ ان ستونوں کی لکڑی دنیا کی مضبوط ترین لکڑیوں میں شمار ہوتی ہے، اور روایت کے مطابق صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے لکڑی کے یہ تینوں ستون بنوائے تھے۔ گویا آج ان ستونوں کو تقریباً 1350 سال گزر چکے ہیں، مگر وہ آج بھی کعبۃ اللہ کی چھت کو اپنے مضبوط وجود پر سنبھالے ہوئے ہیں۔
ان ستونوں کی رنگت گہری بھوری ہے۔ لکڑی کے ہر ستون کا محیط تقریباً 150 سینٹی میٹر اور قطر یعنی موٹائی 44 سینٹی میٹر ہے۔ جب انسان ان ستونوں کا تصور کرتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ اپنی پوری سنجیدگی کے ساتھ خاموش کھڑی ہو، اور ہر ستون صدیوں سے یہ گواہی دے رہا ہو کہ یہ اللہ کا وہ گھر ہے جس کی نسبت ہی دلوں کو بدل دیتی ہے۔
ان تینوں ستونوں کے درمیان ایک پتلی شہتیر نما لکڑی آویزاں ہے، جو ستونوں کے بیچوں بیچ گزرتی ہے۔ اسی پر کعبۃ اللہ کے تحائف اور نوادرات لٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے دونوں اطراف کعبہ کی شمالی اور جنوبی دیواریں ہیں۔ گویا اندر کا ہر حصہ اپنی جگہ ایک ترتیب، ایک وقار اور ایک خاموش روحانیت رکھتا ہے۔
مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے انتظام و انصرام کے ذمہ دار ادارے، الحرمین الشریفین صدارت، کے مطابق کعبہ کے اندرونی حصے میں دائیں جانب رکنِ شامی واقع ہے۔ اسی مقام پر ایک سیڑھی موجود ہے جو ایک مستطیل نما کمرے کی طرف جاتی ہے۔ یہ کمرہ نہایت خاص ہے؛ اس میں کوئی کھڑکی نہیں، صرف ایک دروازہ ہے، اور اس دروازے پر ایک خصوصی قفل لگا ہوا ہے۔ دروازے پر خوب صورت ریشم کا پردہ آویزاں ہے، جس پر سنہرے اور نقرئی رنگ کی نہایت نفیس کشیدہ کاری کی گئی ہے۔
کعبہ کا اندرونی فرش سنگِ مرمر کا ہے۔ اس میں زیادہ تر سفید سنگِ مرمر استعمال ہوا ہے، البتہ سنگِ مرمر کے دوسرے رنگوں کے ٹکڑے بھی فرش میں لگے ہوئے ہیں۔ اندرونی دیواریں خوب صورت سنگِ مرمر کے ٹکڑوں سے مزیّن ہیں، اور کعبہ کا اندرونی حصہ سرخ رنگ کے ریشمی پردے سے ڈھانپا ہوا ہے۔ اس پردے پر سفید رنگ سے عربی عبارات اور اسمائے حسنیٰ لکھے گئے ہیں۔ یہی پردہ کعبۃ اللہ کی چھت کو بھی ڈھانپے ہوئے ہے، جیسے اللہ کے گھر کے اندر ہر سمت ذکر، ادب اور عظمت کی فضا قائم ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے نبیﷺ دِکھتے کیسے تھے؟نبی اکرمﷺ کے حلیہ کا مستند بیان
کعبہ کے اندر آٹھ پتھر ایسے ہیں جن پر خطِ ثلث میں عربی عبارات کندہ ہیں۔ ایک پتھر پر خطِ کوفی میں عربی عبارت لکھی ہوئی ہے۔ یہ خوب صورت خطاطی چھٹی صدی ہجری کے بعد کے دور سے تعلق رکھتی ہے، اور یوں کعبہ کے اندرونی حصے میں صرف عمارت نہیں، بلکہ اسلامی فن، تاریخ اور عقیدت کی جھلک بھی موجود ہے۔
دیوارِ شرقی پر، کعبہ کے دروازے اور باب التوبہ کے درمیان، سابق سعودی فرمانروا شاہ فہد بن عبدالعزیز آل سعود کی ایک دستاویز بھی موجود ہے، جو سنگِ مرمر پر کندہ کی گئی ہے۔ اس میں کعبہ کی تزئینِ نو کی تاریخ درج ہے۔ اس طرح کعبہ کے اندر عبارتوں پر مشتمل پتھروں کی تعداد دس ہے، اور یہ سب سفید سنگِ مرمر کے ہیں۔
یہ سب تفصیلات بتاتی ہیں کہ خانۂ کعبہ اندر سے خالی نہیں، بلکہ اس کے اندر تاریخ بھی ہے، عقیدت بھی، فن بھی، نظم بھی، اور وہ روحانی وقار بھی جس کے سامنے دل بے اختیار جھک جاتا ہے۔ باہر سے یہ اللہ کا گھر اہلِ ایمان کی نگاہوں کا مرکز ہے، اور اندر سے بھی یہ صدیوں کی امانتوں، مقدس نشانیوں اور خاموش گواہیوں کا امین ہے۔
تحریر و تحقیق: محمد حسنین رضا
(اسلامی اسکالر، محقق، اور کالم نگار)