سکولوں میں پرائمری سطح پر یونیفارم ختم کرنے کا فیصلہ
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ہونے والی اعلی سطحی اجلاس میں صوبے کے تعلیمی شعبے میں وسیع اصلاحات کی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پرائمری سطح پر طلبہ کیلئے یونیفارم لازمی نہیں ہوگی جبکہ بچوں اور بچیوں کو ایک ہی سکول میں بنیادی تعلیم فراہم کرنے کیلئے جینڈر فری اسکولوں کی پالیسی متعارف کرائی جائے گی۔
اجلاس بریفنگ میں بتایا گیا کہ شرح خواندگی میں اضافے کیلئے 900 سرکاری سکولوں میں ڈبل شفٹ نظام نافذ کیا جائے گا، اس کے علاوہ این سی ایچ ڈی اساتذہ کی کئی برس سے منجمد تنخواہوں میں اضافے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
سیکرٹری سکول ایجوکیشن کے مطابق آئندہ سال تک صوبے کے تین ہزار سنگل روم سکولوں میں اضافی کمرے تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں یکساں تدریسی مواد فراہم کیا کیا جائے گا تاکہ بچوں کی تعلیمی صلاحیتوں میں بہتری لائی جا سکے۔
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے سرکاری سکولوں سے ٹاٹ کلچر کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ہر طالب علم کیلئے ڈیسک اور فرنیچر کی فراہمی یقینی بنائی جائے، جدید دور میں بچوں کا زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا ناقابل قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کاروبار کے اوقات دوبارہ تبدیل، نوٹیفکیشن جاری
انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی سہولتوں کی نگرانی کیلئے وہ خود دور دراز علاقوں کے اچانک دورے کریں گے اور جہاں ضرورت پڑی وہاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی پہنچیں گے۔