کم از کم اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
تفصیلات کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے ایک شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کی ہے، جس میں تجویز دی گئی کہ موجودہ کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کر دی جائے، اس مجوزہ اضافے کے نتیجے میں تنخواہوں میں تقریباً 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم از کم اجرت میں اضافہ کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید میں بہتری لائے گا اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے کسی حد تک تحفظ فراہم کرے گا۔
پائیڈ کے مطابق اجرتی پالیسی براہِ راست غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مجموعی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے، اس لیے یہ معاملہ صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے وسیع معاشی تناظر میں دیکھا جانا ضروری ہے۔
مزید بتایا گیا کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں:کسان کارڈ پر اربوں روپے کے زرعی قرض جاری
پائیڈ نے زور دیا کہ اجرتوں کو موجودہ مہنگائی اور معاشی حالات کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور ملکی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے، اس تجویز پر عمل درآمد کی صورت میں لاکھوں محنت کشوں کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔