مولانا ادریس کے قتل کے تانے بانے غیر ملکی نیٹ ورکس سے ملنے کا انکشاف
ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ افغان خارجی عناصر اور غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے کیا گیا، حملہ آوروں کے فرنٹ پر کالعدم تنظیم جبکہ بیک پر بیرونی ایجنسیاں ہیں۔
تفتیشی ذرائع کا بتانا ہے کہ مولانا ادریس کو ممکنہ طور پر حالیہ بیانات کے تناظر میں ٹارگٹ کیا گیا، حملہ آوروں نے پہلے بھی عالم دین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی،ٹارگٹ کلرز بالآخر اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
ذرائع کا اس حوالے سے مزید بتانا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے، حتمی رپورٹ کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
دوسری جانب مولانا شیخ محمد ادریس کی نماز جنازہ آبائی علاقہ ترنگزئی میں ادا کر دی گئی ،مولانا شیخ محمد ادریس کے فرزند مولانا انیس نے نماز جنازہ پڑھائی۔
نماز جنازہ میں ہر مکتبہ فکر کے ہزاروں افراد نے شرکت کی، نماز جنازہ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے، جے یو آئی کے رضا کار وں کی بڑی تعداد بھی سکیورٹی پر مامور تھی۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید
جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا عطاء الرحمان اور دیگر قائدین نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
خیال رہے کہ آج ملک کے ممتاز عالم دین اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کو چارسدہ میں قاتلانہ حملے میں شہید کر دیا گیا تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مولانا محمد ادریس اپنی گاڑی میں جا رہے تھے کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔
حملے کے نتیجے میں مولانا محمد ادریس شدید زخمی ہوئے اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ہسپتال انتظامیہ کے مطابق وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ چکے تھے۔