ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور کے علاقہ اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کی واردات ہوئی ، اطلاع ملنے پر ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کئے، بچوں کی قاتل ان کی ماں ہے ، اس نے کسی کے ساتھ مشورہ کیا یا ساتھ کوئی اور ملوث ہے اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس میں کوئی اور کردار سامنے آتے ہیں تو آگاہ کیا جائے گا،قتل کے متعلق خاوند کو پتا تھا یا نہیں اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا،کرائم سین کے مطابق ہم نے کام کیا، تمام بیانات سنے سب میں تضاد پایا گیا، کیس ٹریس ہو گیا مزہد تفتیش کر رہے ہیں، ابتدائی تفتیش کے مطابق خاتون چھری لیکر آئی اس نے بچوں کو قتل کیا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے کہا کہ ملزمہ نے تیز دھار آلہ سے 5 سالہ مومنہ بتول، 4 سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ امِ حبیبہ کو بے دردی سے قتل کیا، انویسٹی گیشن اور آپریشنز ونگ کی مشترکہ کوششوں سے بہت کم وقت میں ملزمہ کی گرفتاری ممکن ہوئی، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمہ کو حراست میں لیا گیا۔
سید ذیشان رضا کا کہنا تھا کہ فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، ملزمہ نے ابتدائی تفتیش میں گھریلو ناچاکی کا اعتراف کر لیا ہے، مقتول بچوں کی نعشیں پوسٹمارٹم کے لیے ڈیڈ ہاؤس منتقل کی گئیں، ملزمہ کو ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالت میں پیش کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، تہرے قتل کی لرزہ خیز واردات، تین بچوں کے گلے کاٹ دیے گئے
ملزمہ نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ کردار پر الزام لگایا جاتا تھا ، شوہر کی جانب سے یہ بھی کہا گیا یہ بچے اس کے نہیں ، شوہر رمضان پہلے موٹر مکینک تھا ٹانگ ٹوٹنے پر گھر بیٹھ گیا، کچھ عرصہ قبل ماربل مارکیٹ اچھرہ جا کر مزدوری کرنے لگا، بااثر افراد سے ناجائز تعلقات کا کہتا تھا ، انکار پر گالیاں دیں اور تشدد کیا۔
ملزمہ کا کہنا تھا کہ کئی روز سے خودکشی کا پلان کر رہی تھی، پھر خاوند رمضان کو قتل کرنے کا بھی خیال آیا، چار روز قبل فیصلہ کیا کہ تینوں بچوں کو قتل کر دوں، ایک چھری گھر میں موجود تھی جبکہ دوسری بازار سے خریدی، قتل میں ساس اور دیور کو پھنسانا چاہتی تھی۔