رپورٹس کے مطابق گیس آئل لے جانے والا جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہو چکا ہے جبکہ ایم ٹی ناوے ایٹروپوس نامی جہاز پچاس ہزار میٹرک ٹن پیٹرول لے کر 9 مارچ کو پہنچا۔
اسی طرح ایک اور ٹینکر ایم ٹی سپروس ٹو جس میں پچپن ہزار میٹرک ٹن پیٹرول موجود ہے، 10 مارچ کو رات آٹھ بج کر تیس منٹ پر پہنچنے کی توقع ہے۔
جبکہ ایم ٹی سی کلپر نامی جہاز تقریباً چونتیس ہزار میٹرک ٹن پیٹرول لے کر 11 مارچ کو دوپہر تک پہنچنے والا ہے۔
پورٹ قاسم کے ترجمان نے تصدیق کی کہ فجیرہ سے آنے والا ایک جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر پہنچ چکا ہے اور مزید ٹینکرز کی آمد متوقع ہے تاکہ ملک بھر میں پیٹرول کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹر سائیکل سوار 2200 روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
گزشتہ ہفتے حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں پچپن روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی تھی۔
اس اضافے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت تین سو پینتیس روپے چھیاسی پیسے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت تین سو اکیس روپے سترہ پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی جو پہلے کی قیمت دو سو چھیاسٹھ روپے سترہ پیسے کے مقابلے میں تقریباً سترہ فیصد اضافہ ہے۔
ایک روز قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے حکومتی اخراجات کم کرنے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا تھا کیونکہ پاکستان ایران اور امریکہ کی جنگ کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔