اپنے ایک بیان میں سابق صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ابراہیم حسن مراد نے کہا کہ فیول کارڈ متعارف کرا کے طلبہ کو مؤثر اور فوری ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے، فیول کارڈ پر ماہانہ تقریباً 10 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔
ابراہیم مراد کا کہنا تھا کہ طلبہ کو ماہانہ 10 لٹر رعایتی پٹرول فراہم کیا جائے تو نمایاں ریلیف ممکن ہے، فیول کارڈ سے طلبہ کی بڑی تعداد مستفید ہو سکتی ہے۔
سابق صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پنجاب میں تقریباً ایک کروڑ ستر لاکھ موٹرسائیکلیں موجود ہیں، تین ماہ کی محدود مدت کے لیے فیول کارڈ سے طلبہ کو خاطر خواہ ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55،55 روپے فی لٹر اضافے کا اعلان کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اقلیتی برادری میں مائنارٹی کارڈز کی تقسیم
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ یکم مارچ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ہم نے نظرثانی کی اس وقت پٹرول کی قیمت 78 ڈالر اور ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل تھی، آج ان کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے، آج 6 مارچ کو پٹرول کی قیمت 106 ڈالر 80 سینٹ اور ڈیزل کی قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ مجبوراً ہمیں قیمتوں میں اضافے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جا رہا ہے، جیسے ہی صورتحال بہتر ہوگی، قیمتوں کو واپس اپنی سطح پر لائیں گے، ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔