اوگرا کے ترجمان نے اپنے بیان میں وضاحت کی کہ ادارے نے پیٹرول کی قیمت میں 73 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 84 روپے 95 پیسے فی لیٹر اضافے کی کوئی سمری وزیر اعظم شہباز شریف کو نہیں بھیجی۔
ترجمان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہ کریں۔
اوگرا نے پٹرول کی قیمت 73.40 روپے اور ڈیزل کی قیمت 84.95 روپے بڑھانے کی سمری وزیراعظم کو بھجوا دی
— Muqadas Farooq Awan (@muqadasawann) March 9, 2026
یہ وضاحت اس کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ حکومت کے مطابق یہ اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کیا گیا جو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے اثرات کی وجہ سے بڑھ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایندھن کے جہازوں کی آمد، پیٹرول کی قیمتوں میں کمی؟
وزیر اعظم نے صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تیل منڈیوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اور خام تیل کی قیمت تقریباً 60 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہو گئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی رہیں تو آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم حکومت عوام پر بوجھ کم سے کم رکھنے کی کوشش کرے گی۔