سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو دی گئی بریفنگ میں بتائے گئے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں خام تیل کے ذخائر 10 دن تک چل سکتے ہیں جبکہ ایل پی جی اور ایل این جی کے ذخائر 15 دن کے لیے دستیاب ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کی وجہ سے پیدا ہونے والی عالمی غیر یقینی صورتحال تیل کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت ملک میں کوئی ہنگامی صورتحال نہیں ہے۔
انہوں نے عوام کو احتیاطاً ایندھن کے استعمال میں بچت کرنے کا مشورہ دیا،کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا کے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم فی الحال ایندھن کی راشننگ نہیں کر رہے کیونکہ ملک میں ایندھن کی کمی نہیں لیکن اگر جنگ طویل ہو گئی تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔
وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت کچھ کارگو شپمنٹس قطر میں پھنس گئی ہیں، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت مقامی گیس فیلڈز سے پیداوار بڑھا رہی ہے، وزارت خزانہ نے ایندھن کے ذخائر اور عالمی تیل کی قیمتوں پر نظر رکھنے کے لیے روزانہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ایک اہم اقدام کے طور پر پاکستان نے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سعودی عرب سے متبادل راستے تیل سپلائی روٹ فراہم کرنے کی باضابطہ درخواست بھی کی ہے تاکہ ملک کی ایندھن سپلائی چین کو محفوظ رکھا جا سکے۔
ادھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے خبردار کیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، اگر ایسا ہوا تو پاکستان کو اپنے بیرونی کھاتوں اور کرنسی کے استحکام پر اضافی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ علاقائی تنازع نے پہلے ہی عالمی توانائی مارکیٹس کو متاثر کر دیا ہے، اگر کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں جس سے پاکستان جیسے ممالک کے لیے درآمدات مزید مہنگی ہو جائیں گی۔