ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دفاعی نظام نے نہایت مستعدی کا مظاہرہ کیا جس کے باعث کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق حساس تنصیبات، سرکاری عمارتیں اور عوامی مقامات مکمل طور پر محفوظ رہے۔ واقعے کے فوراً بعد متعلقہ علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی اور اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا طالبان رجیم کیخلاف آپریشن غضب للحق، 133 ہلاک
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ڈرونز تخریبی کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے تھے۔ ڈرونز کی نوعیت اور ان میں نصب ممکنہ آلات کا فرانزک جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ان کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں تک پہنچا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی کارروائیاں خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش کا حصہ ہیں، تاہم پاکستان کا دفاعی نظام ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
مزید برآں، سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ کسی ممکنہ سہولت کار یا مشتبہ عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس معلومات کی مدد سے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان واقعات نے ایک بار پھر افغان طالبان رجیم اور پاکستان میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے درمیان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان اپنی علاقائی سالمیت، قومی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گا۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے ناکام بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ سیکیورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں اور عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ بروقت اقدام ممکن بنایا جا سکے۔