فیل لائیک درجہ حرارت کیا ہوتا ہے؟ جانیے
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ صرف تھرمامیٹر پر ظاہر ہونے والا درجہ حرارت ہی خطرے کا پیمانہ نہیں ہوتا بلکہ فیل لائیک درجہ حرارت انسانی جسم پر کہیں زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔
ماہر موسمیات دانش بیگ نے بتایا کہ فیل لائیک درجہ حرارت دراصل وہ درجہ حرارت ہے جو انسانی جسم یا جلد حقیقت میں محسوس کرتی ہے، ہوا میں نمی، سورج کی تپش، ہوا کی رفتار، لباس، جسمانی ساخت اور اردگرد کا ماحول اس احساس کو براہ راست متاثر کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایک ہی جگہ موجود دو افراد ایک ہی موسم میں مختلف شدت کی گرمی محسوس کر سکتے ہیں۔
دانش بیگ نے مزید بتایا کہ مثال کے طور پر اگر ایک شخص کا قد چھ فٹ، وزن زیادہ ہو اور وہ کالے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہو، تو اسے گرمی نسبتاً زیادہ محسوس ہوگی، جبکہ کم قد اور ہلکے وزن والے شخص کیلئے فیل لائیک درجہ حرارت مختلف ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بند کمرے، نمی والے ماحول یا کم وینٹیلیشن کی صورت میں بھی جسم پر گرمی کا اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
ماہر موسمیات نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ شدید گرمی میں زیادہ سے زیادہ پانی، خصوصاً منرلز سے بھرپور مشروبات استعمال کریں، تازہ پھل کھائیں اور غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔
دوسری جانب طبی ماہر ڈاکٹر افتخار ملک نے بتایا کہ جب دھوپ یا شدید گرمی کے باعث جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ہو جائے تو ہیٹ اسٹروک کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے، جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہیٹ اسٹروک کی ابتدائی علامات میں شدید پیاس، سر درد، جسم میں درد، کمزوری اور چکر آنا شامل ہیں، جبکہ شدید صورت میں تیز بخار، قے، بے ہوشی، ذہنی الجھن اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ بچوں، بزرگوں، دل کے مریضوں اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں کو اس کا زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے۔