عالمی منڈی میں خام تیل پھر مہنگا ہوگیا
عالمی منڈی میں کاروبار کے دوران خام تیل کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی بندش نے عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق تشویش میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خلیجی خطے میں بحری جہازوں کی آمدورفت معمول پر لانے کی کوششیں بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں، جس کے باعث عالمی منڈی میں سرمایہ کار تیل کی مستقبل کی فراہمی کے حوالے سے محتاط دکھائی دے رہے ہیں۔
منگل کو ابتدائی کاروبار کے دوران برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 108.6 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 104.25 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب اماراتی مربن خام تیل کی قیمت بھی نمایاں سطح پر موجود ہے اور 123.8 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈنگ جاری رہی۔
سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن کی بندش کو عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات میں شمار کیا جارہا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پہلے ہی عالمی توانائی کی منڈی دباؤ کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
معاشی ماہرین کے مطابق خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے یا تیل کی ترسیل متاثر ہونے کی صورت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مہنگائی پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔