پیٹرول بحران میں شدت، فی لیٹر پیٹرول 500 روپے کا ہوگیا

Balochistan Fuel Crisis
فائل فوٹو
Updated 9 گھنٹے قبل | Published June, 4 2026 |
کوئٹہ:(ویب ڈیسک) بلوچستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی شدید قلت کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث علاقوں میں فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 500 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پیٹرول اور ڈیزل کی کمی کے باعث کئی پیٹرول پمپس تاحال بند ہیں، جبکہ کھلے ہوئے پمپس پر شہری بڑی تعداد میں ایندھن حاصل کرنے کیلئے پہنچ رہے ہیں۔ طلب میں اضافے اور سپلائی میں کمی کے باعث کئی مقامات پر گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب اندرون بلوچستان صورتحال مزید تشویشناک بتائی جا رہی ہے، نوشکی، خاران اور لورالائی سمیت مختلف علاقوں میں پیٹرول کی قلت شدت اختیار کر چکی ہے اور بعض مقامات پر ایک لیٹر پیٹرول یا ڈیزل 500 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے، جس سے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

صدر پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن قیام الدین آغا نے کہا ہے کہ بحران پر قابو پانے کیلئے شکارپور سے پیٹرول کی فراہمی میں اضافہ کر دیا گیا ہے، آئندہ ایک سے دو روز میں صورتحال بہتر ہونے کی توقع ہے اور سپلائی معمول پر آ جائے گی۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا کہنا ہے کہ ایرانی پیٹرول کی سپلائی بند ہونے کے باعث پیٹرول پمپس پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے، صرف آج کے روز کوئٹہ کے مختلف پیٹرول پمپس کو 6 لاکھ لیٹر پیٹرول فراہم کیا گیا ہے تاکہ بحران پر قابو پایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

شہریوں نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایندھن کی مسلسل قلت روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ بحران کے باعث عوام پریشانی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جبکہ متعدد پیٹرول پمپس پر لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔