بجٹ 27۔2026: تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں کمی کی تجویز

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے بجٹ 27۔2026 کے لیے تجاویز وزارت خزانہ کو پیش کر دی ہیں جن میں خاص طور پر تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے پر زور دیا گیا ہے۔
فائل فوٹو
Updated 22 گھنٹے قبل | Published May, 17 2026 | Muhammad Bilal
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے بجٹ 27۔2026 کے لیے تجاویز وزارت خزانہ کو پیش کر دی ہیں جن میں خاص طور پر تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے پر زور دیا گیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کی جائے تاکہ شہریوں کی آمدنی میں اضافہ اور روزمرہ کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تنخواہ دار طبقے کے مالی بوجھ میں خاطر خواہ کمی آئے گی اور ملکی معیشت پر بھی مثبت اثر مرتب ہوگا۔

اس کے علاوہ ایف پی سی سی آئی نے سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے جس سے نہ صرف تنخواہ دار افراد بلکہ کاروباری طبقے کو بھی ریلیف ملے گا، تجاویز میں برآمدات کو فروغ دینے کے لیے گڈز ٹرانسپورٹ پر فائنل ٹیکس رجیم کو بحال کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

آئی ٹی شعبے کے حوالے سے بھی تجاویز دی گئی ہیں کہ موجودہ 25 فیصد برآمدی ٹیکس کی شرح کو 2035 تک برقرار رکھا جائے جبکہ ایس ایم ایز کے لیے ٹرن اوور کی حد 25 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ کی جائے تاکہ چھوٹے کاروباروں کو ترقی کے مواقع مل سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان

علاوہ ازیں مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کو 29 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس کا مقصد پیداوار میں اضافہ اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کا مؤقف ہے کہ یہ تجاویز تنخواہ دار طبقے کی مالی حالت بہتر بنانے، کاروباری ماحول کو فعال کرنے اور ملکی معیشت میں توازن قائم کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔