رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کیلئے حتمی فیصلے کے قریب پہنچ چکی ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں درآمدی لاگت کے مقابلے میں نمایاں فرق موجود ہے، بتایا جا رہا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 100 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 200 روپے فی لیٹر سے زائد کا فرق پایا جاتا ہے، جسے پورا کرنے کیلئے حکومت قیمتوں میں اضافہ کرنے پر غور کر رہی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں یہ اضافہ کیا گیا تو اس کے اثرات براہ راست عوام پر پڑیں گے، خصوصاً ٹرانسپورٹ، اشیائے خورد و نوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر چیزوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسنے والے شہریوں کے لیے یہ ممکنہ اضافہ کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ آئندہ چند روز میں نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان متوقع ہے، عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قیمتوں میں اضافے سے قبل عوامی ریلیف کے اقدامات بھی یقینی بنائے جائیں تاکہ مہنگائی کے اس ممکنہ طوفان کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔