ایران-اسرائیل جنگ 2026: اثرات اور ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار

2026 میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جنگی صورتحال کا اس وقت شکار ہو گیا جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ یہا ں یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ یہ تنازع صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں امریکہ براہِ راست شامل ہو گیا جس نے دنیا کے عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔

جنگ کا باضابطہ آغاز 28فروری 2026 کو ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے فوجی، جوہری اور حکومتی اہداف پر حملے کیے،ان حملوں کا واضح مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا، اس کی فوجی طاقت کو کمزور کرنا اور پھر حکومت کی تبدیلی (Regime Change) تھا۔

حملوں کے فوری بعد ایران نے بہادری کا مظاہرہ کیا اور شدید ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل پر درجنوں کے حساب سے میزائل داغ دیے جن کے نتیجے میں اب تک19 سے زائد افراد ہلاک اور 4000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ مارچ 2026 تک جنگ انتہائی شدت اختیار کر چکی تھی، رپورٹس کے مطابق ایران میں1500 سے زائد افراد شہید ہو ئے اور خطے کے دیگر ممالک جیسے لبنان، سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔

علاوہ ازیں، امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے کئی فوجی اثاثے تباہ کیے جن میں140 سے زائد بحری جہاز بھی شامل ہیں ۔ بات کی جائے عالمی معیشت کی تو جنگ نے اس پر بھی گہرے اثرات ڈالے، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش سے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا، معیشت کو شدید نقصان پہنچا اورغریب عوام پر بوجھ مزید بڑھ گیا۔ یہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا بھر کے ممالک کے لیے تشویش کا باعث بنی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ میں مرکزی کردار رہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے نہ صرف فوجی کارروائی کی بلکہ کھل کر حکومت کی تبدیلی کی حمایت بھی کی، انہوں نے ایران کے عوام سے کہا کہ وہ اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اقتدار سنبھال لیں ، ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف متعدد اہداف مقرر کیے جن میں ایران کے میزائل پروگرام کو تباہ کرنا، جوہری صلاحیت کو ختم کرنا، فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور حکومت کی تبدیلی شامل ہیں۔

 ٹرمپ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت الله علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں رجیم چینج ہو جائے گا اور جس طرح ونیزویلا کے صدر کی گرفتاری کے بعد امریکا نے ونیزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کیا اسی طرح ایران میں بھی بلکل ایسا ہی ہو گا جبکہ ایران کے معاملے میں ٹرمپ کے تمام اندازے اور پلاننگ غلط نکلی،ایران نے صورتحال کا بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ مقابلہ کیا اور ٹرمپ کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔

ٹرمپ کے بیانات نے عالمی سطح پر بھی شدید تنقید کو جنم دیا، خاص طور پر جب انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کا تیل حاصل کرنا چاہتا ہے اور جیسے جیسے یہ جنگ لمبی ہوتی گئی، ٹرمپ کے خلاف عوام میں بیزاری اور نفرت کا بیج پروان چڑھتا چلا گیا۔ یورپی ممالک نے بھی ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا جس سے ٹرمپ کو مزید دھچکا لگا۔

رجیم چینج کے لیے امریکہ نے طرح طرح کے حربے استعمال کیے، ہزاروں فوجی مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے اور بڑے پیمانے پر فضائی و سائبر حملے بھی کیے۔ انہوں نے ایران کے اہم آئل ٹرمینل Kharg Island پر قبضے کا امکان بھی ظاہر کیا جس سے یہ تاثر ملا کہ جنگ کے پیچھے معاشی مفادات بھی چھپے ہیں۔

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے جنگ کے دوران ہی مذاکرات کی بات بھی کی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ کیا لیکن ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا اور اسرائیلی حکام نے بھی مذاکرات کی کامیابی پر شکوک کا اظہار کیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ ایک ہی وقت میں جنگ اور سفارتکاری جیسے دونوں راستے استعمال کر رہے تھے۔

اسرائیل نے اس جنگ میں نہایت جارحانہ حکمت عملی اپنائی اور ایران کے اعلیٰ رہنماؤں کو نشانہ بنایا، جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ نیٹ ورک استعمال کیے گئے اور بڑے پیمانے پر فضائی حملے بھی کیے۔

ماہرین کے مطابق اس جنگ کے کئی خطرناک پہلو ہیں جن میں عالمی توانائی بحران، دہشت گردی ، پراکسی جنگوں میں اضافہ اور اس جنگ کا مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ شامل ہیں، کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جنگ افغانستان اور عراق جیسی طویل اور مہنگی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں اس جنگ کے خلاف امریکہ، یورپ اور ایشیا میں احتجاج بھی دیکھنے میں آئے، امریکی شہری گو ٹرمپ گو کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے، وہ ٹرمپ جنہوں نے مارچ 2026 ء کے آغاز میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا اور ایرانی عوام سے یہ کہا کہ وہ رجیم چینج کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں، صرف چار ہفتوں کے اندر امریکی عوام ہی ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ۔ ٹرمپ کے خلاف اس عوامی بغاوت کی سب سے بڑی وجہ میں سے ایک ایران کے خلاف جنگ ہے جس نے امریکی عوام کو بھی معاشی طور پر متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ 

ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار اس جنگ میں نہایت اہم اور متنازع رہا ہے۔ انہوں نے ایک طرف فوجی کارروائی کو بڑھایا تو دوسری طرف مذاکرات کی بات بھی کی۔ ان کی پالیسیوں نے نہ صرف جنگ کو شدت دی بلکہ عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

ایران-اسرائیل جنگ 2026 نہ صرف ایک علاقائی تنازع ہے بلکہ یہ عالمی سیاست کا ایک اہم موڑ بن چکی ہے۔ اس جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ طاقت کے استعمال سے مسائل کا حل ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا، اگر یہ جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو اس کے اثرات آنے والے کئی سالوں تک دنیا کی معیشت، سلامتی اور عالمی طاقتوں کے توازن کو متاثر کرتے رہیں گے۔