ایران، امریکا اور اسرائیل کی جنگ — فتح کا دھوکہ یا تباہی؟

عالمی منظرنامہ اس وقت ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ بظاہر یہ جنگ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے نام پر لڑی جا رہی ہے، مگر اس کے پس پردہ طاقت، اثر و رسوخ اور جغرافیائی بالادستی کی ایک پیچیدہ بساط بچھائی جا چکی ہے۔

ابتدائی منصوبہ بندی یہ تھی کہ ایران پر ایک فیصلہ کن حملہ کر کے نہ صرف اس کی عسکری صلاحیت کو مفلوج کر دیا جائے بلکہ اس کی قیادت کو بھی ختم کر کے چند ہفتوں میں پورا نظام لپیٹ دیا جائے۔ مگر زمینی حقائق نے اس حکمت عملی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ ایران کے بھرپور اور غیر متوقع ردعمل نے اس تاثر کو زائل کر دیا کہ یہ جنگ یکطرفہ ہوگی۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ نے اس پورے معاملے کا ایک اور رخ بھی بے نقاب کیا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی اصل حکمت عملی ایران کے اندرونی حالات کو بھڑکا کر بغاوت پیدا کرنا تھی، تاکہ نظام اندر سے ٹوٹ جائے۔ تاہم سخت سیکیورٹی کنٹرول، ریاستی گرفت اور عوامی ردعمل کی غیر متوقع سمت نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ نہ صرف یہ کہ بغاوت کی امیدیں دم توڑ گئیں بلکہ امریکا اور اسرائیل کی توقعات بھی خاک میں مل گئیں۔

یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا ایران واقعی جیت رہا ہے؟ بظاہر تو ایران نےسپر پاور امریکا اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو کر اپنی طاقت کا لوہا منوالیا ہے تاہم تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر فتح، کامیابی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات فتح خود ایک ایسی شکست ہوتی ہے جو آنے والے وقت میں سب کچھ چھین لیتی ہے۔

ایران کی موجودہ صورتحال کو اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ ایک ماہ کی جنگ میں بنیادی ڈھانچے، عسکری تنصیبات اور قیادت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔ اگرچہ مزاحمت نے دشمن کو وقتی طور پر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، مگر کیا یہ مستقل کامیابی ہے؟ ہرگز نہیں۔ امریکا جیسی طاقت اپنی ناکامی کو آسانی سے تسلیم نہیں کرے گی۔ اس کے لیے یہ جنگ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ اس کی عالمی حیثیت، مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ اور چین کے ساتھ جاری سرد جنگ کا حصہ ہے۔

امریکا کے داخلی حالات بھی اس جنگ کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ سیاسی دباؤ، معاشی مشکلات اور آنے والے انتخابات ایسے عوامل ہیں جو واشنگٹن کو کسی بھی قیمت پر کمزور نظر آنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اسی طرح اسرائیلی قیادت کے لیے بھی یہ جنگ بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے میں کسی بھی فریق کے پیچھے ہٹنے کے امکانات نہایت کم ہیں۔

دوسری جانب چین اور دیگر عالمی طاقتیں اس صورتحال کو اپنے اپنے مفادات کے تناظر میں دیکھ رہی ہیں۔ چین نہیں چاہے گا کہ امریکا مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہو، لہٰذا یہ جنگ جتنی طول پکڑے گی، اتنا ہی چین کے حق میں بہتر ہے لیکن اس طوالت کے نتیجے میں عالمی طاقتوں کا توازن بگڑتا چلاجائے گا۔

اس پورے بحران کا سب سے نازک پہلو مسلم دنیا کی تقسیم ہے۔ عرب ممالک، ایران اور دیگر ریاستیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی نظر آتی ہیں، جبکہ اصل فائدہ ان قوتوں کو ہو رہا ہے جو خطے کے وسائل پر قبضہ چاہتی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال نہایت حساس ہے، جہاں ایک طرف خلیجی ریاستوں کے ساتھ معاشی اور دفاعی تعلقات ہیں، تو دوسری طرف داخلی ہم آہنگی کا مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے۔

اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے نتائج صرف ایران یا اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے۔ خلیج فارس کا خطہ مکمل تباہی کا منظر پیش کر سکتا ہے، عالمی معیشت جو کہ پہلے ہی ایک ماہ کی جنگ کے سنگین نتائج بھگت رہی ہے، مکمل طور پرہل کر رہ جائے گی، اور اگر کسی مرحلے پر برطانیہ، روس، شمالی کوریا اور چین جیسی بڑی طاقتیں براہِ راست ملوث ہو گئیں تو یہ تنازعہ ایک عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

اصل خطرہ یہی ہے کہ کہیں یہ جنگ ایک ایسی "فتح"پر ختم نہ ہو جو درحقیقت مکمل تباہی ہو۔ اگر ایک ملک اپنی بقا، معیشت، انفراسٹرکچر اور انسانی جانوں کی بھاری قیمت چکا کر میدان میں کھڑا رہ بھی جائے تو کیا اسے کامیابی کہا جا سکتا ہے؟ایران نے ثابت کردیا ہے کہ وہ جھکنے والا نہیں، مگر کیا صرف نہ جھکنا ہی جیت ہے؟ ایک مہینے کی جنگ میں ہزاروں عمارتیں ملبہ بن گئیں، ملک کی قیادت اورعسکری ڈھانچے کے بنیادی ستون گرگئے، معیشت رُک رُک کر سانس لینے لگے تو پھر یہ کیسی کامیابی؟ اگر ایران یہ جنگ جیت بھی جاتا ہے تو کیا وہ جیت واقعی جیت ہوگی جہاں فتح کا جشن منانے والا کوئی باقی ہی نہ بچے؟یُوں ایران جیت کر بھی سب ہار ہی جائے گا۔

اسی لیے موجودہ حالات میں واحد راستہ مذاکرات ہے۔ جذبات، انا اور وقتی برتری کے خمار سے نکل کر حقیقت پسندانہ فیصلے کرنے ہوں گے۔ اگرچہ مذاکرات کی شرائط سخت اور یکطرفہ محسوس ہوں، تب بھی انہیں ایک عارضی حکمت عملی کے طور پر قبول کرنا ہی دانشمندی ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات وقتی پسپائی ہی مستقبل کی بڑی کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔

آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ہم جنگ کے شعلوں کو مزید بھڑکائیں گے یا عقل و تدبر سے انہیں بجھا کر آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ دنیا چھوڑ جائیں گے۔