عالمی بساط، ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کا ایٹمی حصار

مشرقِ وسطیٰ کے تزویراتی (Strategic) افق پر اٹھنے والا بارود کا دھواں اب محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک نئے عالمی نظام کی زچگی کے کرب کی علامت ہے، ایران میں قیادت کی ممکنہ منتقلی اور اسرائیل و امریکہ کے بڑھتے ہوئے جارحانہ عزائم نے پاکستان جیسے ایٹمی ملک کو ایک ایسی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے جہاں "انتظار کرو اور دیکھو" کی پالیسی اب شاید کافی نہ ہو۔

اس وقت بین الاقوامی سیاست کے ایوانوں میں پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور ٹرمپ انتظامیہ کی ممکنہ "ٹرپنگ" پالیسی پر جو بحث چھڑی ہے وہ ہمارے لیے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے، سب سے پہلے ہمیں امریکی سیاست کے اس "مہلک جال" کو سمجھنا ہوگا جس کا ذکر ہنری کسنجر نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "World Order" میں کیا تھا۔

کسنجر کا وہ جملہ کہ "امریکہ کا دشمن ہونا خطرناک ہو سکتا ہے لیکن اس کا دوست ہونا مہلک (Fatal) ثابت ہوتا ہے"، محض ایک قول نہیں بلکہ امریکی خارجہ پالیسی کا ایک تاریخی سچ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے ساتھ ہی "ٹرانزیکشنل ڈپلومیسی" کا جو دور شروع ہو رہا ہے اس میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اسے واشنگٹن کے مخصوص علاقائی مفادات (ایران کو تنہا کرنا اور بھارت کو برتری دینا) کے لیے ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کی سابقہ دور کی پالیسیاں بتاتی ہیں کہ وہ اتحادیوں کو اس وقت تک "انگیج" رکھتے ہیں جب تک ان کا اپنا ایجنڈا پورا نہ ہو جائے اور پھر انہیں ایک نئے بحران کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کا نکتہ نظر پاکستان کے حوالے سے ایک "خاموش دشمنی" پر مبنی رہا ہے، موساد اور اسرائیلی دفاعی ادارے (IDF) پاکستان کو محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک "نظریاتی ایٹمی طاقت" کے طور پر دیکھتے ہیں، اسرائیل کے پاس پاکستان کے حوالے سے دو بڑی رکاوٹیں ہیں: اول، پاکستان کی 'شاہین' اور 'غوری' میزائل ٹیکنالوجی جس کی رینج (تقریباً 2750 کلومیٹر) تل ابیب تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

دوم، پاکستان کا "پروفیشنل ملٹری کلچر" جو خطے کی دیگر اسلامی افواج سے اسے ممتاز کرتا ہے، اسرائیل براہِ راست پاکستان سے اس لیے نہیں الجھتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پاکستان ایک "ایٹمی ریاست" (Atomic State) ہے اور یہاں کسی بھی مہم جوئی کا مطلب ایک ایسی آگ بھڑکانا ہے جس کی تپش سے خود اسرائیل کا اپنا وجود پگھل سکتا ہے۔

لہٰذا، اسرائیل کی حکمتِ عملی پاکستان کو براہِ راست چیلنج کرنے کے بجائے اسے معاشی طور پر مفلوج کرنے اور بین الاقوامی سطح پر "فورتھ جنریشن وار فیئر" کے ذریعے کمزور کرنے کی رہی ہے۔

اعداد و شمار کی زبان میں بات کی جائے تو اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی حالیہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کی مسلسل ترقی (جس میں اب ٹیکٹیکل ہتھیار بھی شامل ہیں) نے اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادیوں کو ایک دفاعی دفاع (Defensive Defense) پر مجبور کر دیا ہے۔

پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً 170 سے 180 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں جو اسے دنیا کی چھٹی بڑی ایٹمی طاقت بناتے ہیں، یہی وہ "ڈیٹرنس" (Deterrence) ہے جو تہران اور بیروت کی طرح اسلام آباد کو کھلی جارحیت سے محفوظ رکھے ہوئے ہے، ایسے میں پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں تین نکاتی ایجنڈے پر کام کرنے کی ضرورت ہے:

پہلا سٹریٹجک خود مختاری: ہمیں ٹرمپ کے "دوستی کے جال" سے بچتے ہوئے ایک ایسی پوزیشن اختیار کرنی ہوگی جہاں ہم کسی بھی ملک کی پراکسی جنگ کا حصہ نہ بنیں، کسنجر کے انتباہ کو یاد رکھتے ہوئے ہمیں واشنگٹن سے تعلقات کو مفادات کی بنیاد پر رکھنا ہوگا نہ کہ جذباتی وابستگی پر۔

دوسرا ایٹمی ڈیٹرنس کا استحکام: پاکستان کو اپنی میزائل ٹیکنالوجی اور ایٹمی صلاحیت کو کسی بھی قسم کے عالمی دباؤ (جیسے رول بیک کے مطالبات) سے محفوظ رکھنا ہوگا، یہی ہماری بقا کی واحد ضمانت ہے۔

تیسرا علاقائی بلاک سازی: ایران، چین اور ترکی کے ساتھ مل کر ایک ایسا معاشی اور دفاعی "کوارڈ" (Quad) بنانا ہو گا جو امریکی اور اسرائیلی اثر و رسوخ کے سامنے ایک ٹھوس دیوار بن کر کھڑا ہو سکے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ عالمی سیاست کی اس بساط پر پاکستان اب کسی غلطی کا متحمل نہیں ہو سکتا، اگر ہم نے اپنی معیشت کو درست نہ کیا اور ٹرمپ کے ممکنہ "ٹرپ" کو نہ سمجھا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

ہمیں ایک ایسی ایٹمی طاقت بن کر ابھرنا ہوگا جو اپنی شرائط پر دنیا سے بات کرے نہ کہ وہ جو دوسروں کے اشاروں پر اپنی تقدیر لکھوائے لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ ہم "دوستی کے مہلک بوجھ" کو اتار پھینکیں اور ایک خود مختار مستقبل کی بنیاد رکھیں۔
 

ضرور پڑھیں