جنگ کے سائے میں ایران کا مستقبل

ایران، مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے بھونچال سے گزر رہے ہیں جس کی شدت اور اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جائیں گے، ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت، اسرائیل اور امریکا کے فضائی حملے، خطے میں بڑھتی عسکری کشیدگی، ایران میں قیادت کی منتقلی اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والے ردِعمل نے بین الاقوامی نظام کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر ان تمام واقعات کو ایک جامع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ طاقت، نظریہ، اسٹریٹجک مفادات اور عالمی سفارتکاری کی نئی ترتیب کی کہانی ہے۔

سب سے پہلے ایران کے اندرونی منظرنامے کو سمجھنا ضروری ہے، آیت اللہ علی خامنہ ای تقریباً 37 برس تک ایران کے سب سے طاقتور منصب، رہبرِ اعلیٰ، پر فائز رہے، ایران کے آئینی ڈھانچے میں یہ عہدہ محض علامتی نہیں بلکہ فیصلہ کن ہے، رہبرِ اعلیٰ ریاستی پالیسی، فوج، پاسدارانِ انقلاب، خارجہ حکمت عملی اور نظریاتی سمت کا حتمی اختیار رکھتے ہیں، ان کی مبینہ ہلاکت کی خبریں سامنے آنے کے بعد نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا میں یہ سوال اٹھا کہ اقتدار کی منتقلی کس طرح ہوگی اور ایران کی آئندہ سمت کیا ہو گی۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی آئین کے تحت ایک عبوری قیادت کونسل تشکیل دی گئی ہے جس میں صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ اور گارڈین کونسل کا نمائندہ شامل ہیں، یہ کونسل اس وقت تک امور چلائے گی جب تک ماہرین کی کونسل (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نیا رہبر منتخب نہیں کر لیتی، اس 88 رکنی باڈی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہبی و سیاسی اعتبار سے موزوں ترین شخصیت کا انتخاب کرے، یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ایران کی نظریاتی سمت، پاسدارانِ انقلاب کا کردار، اور عوامی دباؤ سب ایک ساتھ اثر انداز ہوں گے۔

جانشینی کے ممکنہ امیدواروں میں مجتبیٰ خامنہ ای کا نام سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے، اگرچہ انہوں نے کبھی باضابطہ سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا لیکن نظام کے اندر ان کا اثر و رسوخ تسلیم شدہ ہے، حسن خمینی کا نام بھی سامنے آتا ہے جو انقلابِ ایران کے بانی روح اللہ خمینی کے پوتے ہیں، اس نسبت کی علامتی اہمیت کم نہیں، صادق آملی لاریجانی، ہاشم حسینی بوشہری اور دیگر مذہبی شخصیات بھی منظرنامے میں موجود ہیں، مگر اصل فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ پاسدارانِ انقلاب اور ریاستی اسٹرکچر کس شخصیت کو نظام کے تسلسل کے لیے زیادہ موزوں سمجھتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل اور امریکا کے مبینہ کردار نے اس بحران کو علاقائی سے عالمی سطح تک پھیلا دیا ہے، اسرائیلی میڈیا کے دعوے کہ حملوں میں اعلیٰ ایرانی کمانڈرز بھی مارے گئے اور یہ کہ رہبرِ اعلیٰ کے کمپاؤنڈ پر درجنوں بم گرائے گئے، خطے میں ایک نئے عسکری باب کی علامت ہیں، امریکا کے بعض ذرائع نے بھی حملوں کی تصدیق یا کم از کم ان کے نتائج پر قیاس آرائیاں کیں جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے باضابطہ اور واضح تصدیق یا تردید کا انتظار جاری رہا۔

سی آئی اے کی جانب سے مبینہ طور پر ایرانی قیادت کے خفیہ اجلاس کی نشاندہی اور اس کے بعد حملے کا وقت طے ہونے کی خبریں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ یہ کارروائی کسی فوری اشتعال کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل نگرانی اور اسٹریٹجک پلاننگ کا حصہ ہو سکتی ہے، اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انٹیلی جنس جنگ اب کھلی عسکری کارروائیوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔

ایران کا ردِعمل بھی کم اہم نہیں، ایرانی صدر نے اس واقعے کو ایک بڑا جرم قرار دیتے ہوئے اس کا جواب دینے ، قومی سطح پر سوگ اور تعطیلات کا اعلان کیا، اس طرح کے بیانات نہ صرف داخلی یکجہتی کے لیے ہوتے ہیں بلکہ عالمی برادری کو پیغام دینے کے لیے بھی، ایران کے اندر عوامی جذبات، مذہبی وابستگی اور قومی وقار کا عنصر اس ردِعمل کو مزید شدت دے سکتا ہے۔

علاقائی سطح پر اس کے اثرات پاکستان میں بھی دیکھنے کو ملے، کراچی، اسلام آباد، لاہور اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، بعض مقامات پر پرتشدد واقعات اور جانی نقصان کی اطلاعات نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا، یہ ردِعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی جنوبی ایشیا کے سماجی و سیاسی ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

مزید برآں، ایران کی جانب سے امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن پر حملے کے دعوے اور امریکی تردید نے صورتحال کو سمندری محاذ تک پھیلا دیا، اگرچہ امریکی حکام نے نقصان کی تردید کی مگر ایسے دعوے اور جوابی بیانات عالمی مارکیٹوں، تیل کی قیمتوں اور سمندری راستوں کی سلامتی پر فوری اثر ڈالتے ہیں۔

اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ ایران کی نئی قیادت مذاکرات کی خواہاں ہے، سفارتی دروازے کے کھلے رہنے کی علامت ہے، یہ بیان اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عسکری دباؤ اور سفارتی پیشکش بیک وقت استعمال کی جا رہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ مذاکرات ایران کی نئی قیادت کو نرم مؤقف اپنانے پر آمادہ کریں گے یا مزید سخت گیری کو جنم دیں گے؟

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ بحران تین سطحوں پر جاری ہے:اول، ایران کے اندر اقتدار کی منتقلی اور نظریاتی تسلسل کا سوال، دوم، اسرائیل اور امریکا کے ساتھ براہِ راست یا بالواسطہ عسکری محاذ آرائی اور سوم، خطے کے دیگر ممالک اور عالمی برادری کا ردِعمل۔

اگر ایران کے اندر نسبتاً معتدل قیادت ابھرتی ہے تو ممکن ہے کہ سفارتی راستے کو ترجیح دی جائے تاہم اگر سخت گیر دھڑے کو برتری ملتی ہے تو خطہ ایک طویل اور غیر یقینی کشیدگی کی طرف جا سکتا ہے، اسی طرح اسرائیل اور امریکا کی حکمتِ عملی بھی اس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ ایران کو کس حد تک کمزور یا محدود دیکھنا چاہتے ہیں اور کس حد تک براہِ راست جنگ سے گریز کرنا چاہتے ہیں، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ واقعات مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو کس حد تک بدل دیں گے۔

مگر اتنا طے ہے کہ ایران کی قیادت میں تبدیلی، عسکری کشیدگی اور سفارتی اشارے مل کر ایک نئے جغرافیائی و سیاسی توازن کو جنم دے رہے ہیں، آنے والے ہفتے اور مہینے اس بحران کی سمت کا تعین کریں گےآیا یہ تصادم کی طرف بڑھے گا یا مذاکرات کی میز پر کوئی نیا باب کھلے گا۔

عالمی سیاست کی اس بساط پر ہر چال کا اثر دور رس ہے، ایران، اسرائیل، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک اب ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں جذبات، نظریہ اور طاقت کی سیاست سب ایک ساتھ حرکت میں ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ ایسے لمحات قوموں کی تقدیر کا رخ بدل دیتے ہیں، سوال صرف یہ ہے کہ یہ تبدیلی استحکام کی صورت میں آئے گی یا مزید عدم استحکام کی شکل میں۔ 

سحر و افطار اوقات 22 March 2026, Ramadan
فقہ جعفری فقہ حنفی شہر
افطار سحر افطار سحر
ضرور پڑھیں