ایران امریکا مذاکرات میں اہم موڑ، قطری وفد اچانک تہران پہنچ گیا
اس دورے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جارہا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق قطری وفد کی قیادت قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے مشیر کر رہے ہیں۔
وفد کا بنیادی مقصد ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینا اور مستقبل کے سفارتی امکانات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دورہ گزشتہ ہفتے ہونے والے سفارتی رابطوں کا تسلسل ہے، قطر طویل عرصے سے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا آ رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کیلئے ایک اہم سفارتی پل سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق قطری وفد اپنے قیام کے دوران ایرانی حکام سے ملاقاتیں کرے گا، جن میں مذاکراتی عمل کی تازہ صورتحال، ممکنہ معاہدوں اور آئندہ سفارتی اقدامات پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین خطے میں استحکام اور باہمی اعتماد سازی کے اقدامات پر بھی غور کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق قطر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مختلف معاملات پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں، اگر مذاکراتی عمل مثبت انداز میں آگے بڑھتا ہے تو اس کے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر بھی اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے ٹرمپ کا آج ڈیل پر دستخط ہونے کا دعویٰ مسترد کر دیا
قطری وفد کے اس اچانک دورے کو عالمی سفارتی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے اور آئندہ چند روز میں مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔