صومالیہ میں جہاز اغواء، 17 پاکستانی بھی شامل
پہلا واقعہ 21 اپریل کو پیش آیا جب ’ایم ٹی آنر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو قزاقوں نے صومالیہ کے قریب اغوا کر لیا۔ جہاز پر 17 افراد پر مشتمل عملہ سوار تھا جن میں 10 پاکستانی بھی شامل ہیں۔
اہلخانہ کے مطابق قزاقوں نے عملے پر تشدد کیا، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور جہاز پر خوراک کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہر مغوی پر ایک مسلح قزاق تعینات ہے اور محدود وقت کے لیے اہلخانہ سے رابطے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق پاکستانی حکومت اور متعلقہ ادارے مغویوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ صومالی حکام سے بھی سفارتی رابطے کیے جا رہے ہیں۔
دوسرا واقعہ 27 اپریل کو رپورٹ ہوا جب ’سوارڈ‘ نامی کارگو جہاز کو صومالی ساحل کے قریب گاراکاد کے علاقے کے نزدیک اغوا کر لیا گیا۔ یہ جہاز مصر کے شہر سویز سے کینیا کے شہر ممباسا کے لیے سیمنٹ لے جا رہا تھا۔ برطانوی میری ٹائم حکام کے مطابق جہاز پر 15 افراد سوار ہیں جن میں دو بھارتی اور 13 شامی شہری شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا امریکا سے مذاکرات کی درخواست موصول ہونے کا دعویٰ
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً نو مسلح قزاق جہاز پر سوار ہوئے اور اسے اپنے کنٹرول میں لے کر صومالی ساحل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پنت لینڈ میری ٹائم پولیس فورس کو صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور واقعے کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دونوں واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب عالمی سمندری راستے پہلے ہی آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے جہازوں کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ صومالی قزاقی 2008 سے 2018 کے دوران عروج پر رہی، تاہم بین الاقوامی بحری کارروائیوں کے بعد اس میں کمی آئی تھی۔ اب 2023 کے بعد ایک بار پھر قزاقی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو عالمی تجارت اور سیکیورٹی کے لیے ایک نیا خطرہ بن سکتا ہے۔
حکام اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو بحری قزاقی کی یہ نئی لہر بین الاقوامی تجارت، توانائی کی ترسیل اور خطے کے امن کے لیے سنگین چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
نومبر میں بھی موغادیشو کے قریب ایک کمرشل ٹینکر پر مسلح حملہ کیا گیا تھا جس میں مشین گنز اور راکٹ لانچرز استعمال کیے گئے۔