ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا چہرہ خراب ہو چکا، برطانوی اخبار
Mojtaba Khamenei health
فائل فوٹو
تہران: (ویب ڈیسک) ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق برطانوی اخبار کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ شدید زخمی ہونے کے باعث ان کا چہرہ خراب ہوچکا ہے۔

بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ حملہ تہران کے وسط میں واقع سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ پر کیا گیا تھا، جس میں ان کے والد سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے۔

 اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای  کے چہرے کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ان کی ایک یا دونوں ٹانگیں بھی بری طرح متاثر ہوئیں، ان کے اہل خانہ کے دیگر افراد بھی اس حملے میں مارے گئے۔

ان کی تقرری کے بعد سے وہ اب تک عوام کے سامنے نہیں آئے اور نہ ہی ان کی کوئی تصدیق شدہ ویڈیو یا آڈیو جاری کی گئی ہے، صرف تحریری بیانات سامنے آئے ہیں۔

 مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کی شہادت کے بعد قیادت سنبھالی،ان کی تقرری مارچ 2026 میں ایران کی مجلس خبرگان نے کی، جب ایک عبوری کونسل نے عارضی طور پر ذمہ داریاں سنبھال رکھی تھیں، یہ تبدیلی ایران کی حالیہ تاریخ کی اہم ترین سیاسی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، جو جنگی حالات میں سامنے آئی۔

امریکی دفاعی حکام نے بھی اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی اور ممکنہ طور پر چہرے سے معذور ہو چکے ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، کچھ حکام نے معمولی زخمی ہونے کا کہا جبکہ دیگر نے انہیں مکمل طور پر فعال قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:مذاکرات کی کامیابی مخالف فریق کی نیک نیتی پر ہے، ایران

 ذرائع کا کہنا ہے کہ شدید زخموں کے باوجود وہ اب بھی محدود انداز میں رابطوں کے ذریعے فیصلوں میں حصہ لے رہے ہیں، تاہم ان کی عوامی عدم موجودگی نے ایران کی قیادت اور ادارہ جاتی استحکام پر سوالات کو جنم دیا ہے۔