ترجمان پاسداران انقلاب ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں کہا کہ کیا آپ کے اندرونی اختلافات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ آپ خود ہی مذاکرات کر رہے ہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی مرضی کے بغیر نہ پرانی تیل کی قیمتیں واپس آئیں گی اور نہ ہی پرانا نظام واپس آئے گا۔
ذوالفقاری نے مزید کہا کہ ایران کیخلاف کسی کارروائی کا تصور ختم ہونا چاہیے اور پاسداران انقلاب کسی بھی امریکی دباؤ کے تحت نہیں چلیں گے۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضا مند ہے اور نئی ایرانی قیادت معاہدہ کرنے کی طرف ہے، ایران نے امریکہ کو تیل اور گیس سے متعلق بڑا تحفہ دیا ہے اور اس بار ایران سمجھداری سے بات کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس سخت ردعمل نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور ممکنہ مذاکرات کے امکانات کمزور ہو گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کے معاہدے پر دباؤ میں نہیں آئے گا اور اپنی قومی سلامتی اور توانائی کے وسائل کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کھل گئی، کن جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی؟
خطے کی سیاسی صورتحال اور امریکہ کے دعووں کے بعد عالمی میڈیا میں ایران کی یہ بیان بازی اہمیت اختیار کر گئی ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔