ایران کا اسرائیلی قیادت کے مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
Iran Israel conflict
فائل فوٹو
تہران:(ویب ڈیسک) ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کیخلاف جاری کارروائیوں کے دوران اہم قیادتی اور حساس مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی وعدۂ صادق نامی آپریشن کی اڑتالیسویں لہر کے دوران کی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ حالیہ حملوں میں اسرائیل کے اہم رہنماؤں اور سکیورٹی سے متعلق مراکز کو نشانہ بنایا گیا، اس کارروائی میں ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا گیا جس کا مقصد اسرائیل کے اہم اور حساس اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران متعدد اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، بعض اطلاعات کے مطابق حملوں کا رخ اسرائیل کے بڑے شہر تل ابیب اور دیگر اہم مقامات کی طرف بھی کیا گیا، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔

دوسری جانب اسرائیل کیطرف سے ابھی تک ایران کے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا سعودیہ میں فوجی اڈے پر حملہ، 5 امریکی طیارے تباہ

واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی گزشتہ کچھ عرصے سے بڑھتی جا رہی ہے جس کے باعث خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

ماہر بین الاقوامی امور کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور خطے کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ضرور پڑھیں