حکام کے مطابق حملہ سترا کے علاقے میں ہوا، جہاں متعدد افراد زخمی ہوئے اور ریفائنری کی املاک کو نقصان پہنچا۔ بحرینی وزارتِ صحت کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ ڈرون حملے میں 32 شہری زخمی ہوئے، جن میں سے 4 کی حالت تشویشناک ہے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حفاظتی انتظامات کو بڑھا دیا ہے، نقصان اور زخمیوں کی مکمل تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔
ذہن نشین رہے کہ یہ ریفائنری بحرین کی سب سے بڑی آئل ریفائنری ہے اور ملک کے توانائی کے نظام میں نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ حملے کے بعد توانائی کی پیداوار اور رسد پر اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ان کا فضائی دفاعی نظام فعال ہے، میزائل حملوں کو روکنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آئل ریفائنریوں پر حملے کیوں کیے؟ امریکا اسرائیل سے ناراض ہوگیا
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق کے اربیل ایئر پورٹ کے قریب امریکی فوجی اڈے کو بھی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیج میں اس قسم کے حملے عالمی توانائی مارکیٹ اور علاقائی سیکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، خطے کے ممالک کو اپنی دفاعی تیاری مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔