بلال بن ثاقب نے اے آئی ایجنٹس کی ٹیم تیار کرلی، فری لانسرز کو خبردار کر دیا
چیئرمین پیوارا بلال بن ثاقب نے اے آئی ایجنٹس کی مدد سے ایک ورک ماڈل تیار کر دیا،اپنے تجربہ کو بلال بن ثاقب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کر دیا۔
اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا کہ اس دور میں صرف پڑھنا کافی نہیں، اے آئی کے ساتھ کام بنا کر سیکھنا ہی کامیابی کا راستہ ہے،اے آئی کا خودکار عملدرآمد اور کام کرنے کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے۔
بلال بن ثاقب نے اے آئی ایجنٹس پر مشتمل ورچوئل ٹیم چلا کر نئے ورک ماڈل کی مثال قائم کر دی۔
Spent the weekend running a team of AI agents using PaperclipAI: https://t.co/QUAO1ZXAk8.
— Bilal bin Saqib MBE (@Bilalbinsaqib) May 5, 2026
A CEO, an engineer, a designer.
- Each with a defined role and scope.
- They sit in an inbox. You approve the hire or reject it.
- Once live, they coordinate on tasks, hand work to each… pic.twitter.com/revGvug8Yd
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ اے آئی ایجنٹس کی ٹیم سی ای او ، انجینئر اور ڈیزائنر پر مشتمل ہے ، اے آئی ورکنگ ماڈل میں فیصلوں کی منظوری انسان کے ہاتھوں میں رہے گی، اے آئی ایجنٹس ایک دوسرے سے رابطہ، کام کی تقسیم اور مسائل کی نشاندہی بھی خود کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ورکنگ ماڈل میں جیسے جیسے کام کا دائرہ بڑھتا ہے، اے آئی ایجنٹس نئے وسائل اور ٹیم ممبرز کی ضرورت بھی خود بتاتے ہیں،اے آئی ایجنٹس کے اخراجات اور کامیابی کی شرح ریئل ٹائم میں مانیٹر کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپس میں سب سے بڑی اپ ڈیٹ کردی گئی
بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ 1.5 ٹریلین ڈالر کی عالمی فری لانسرز معیشت کو اے آئی ماڈل سے بڑا چیلنج درپیش ہو گا، ریسرچ، ایگزیکیوشن اور کوآرڈینیشن جیسے روایتی ہنر تیزی سے خودکار ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں بڑی کمپنیاں بڑے عملے سے نہیں، کم مگر باصلاحیت انسانی نگرانی اور اے آئی ورک فورس سے چلیں گی۔