بلال بن ثاقب نے اے آئی ایجنٹس کی ٹیم تیار کرلی، فری لانسرز کو خبردار کر دیا

وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگیولیٹری اتھارٹی (پیوارا) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے فری لانسرز اور نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر کے فری لانسرز کے لیے اےآئی اب نیا چیلنج بن گیا ہے۔
فائل فوٹو
Updated 22 گھنٹے قبل | Published May, 5 2026 | Muhammad Bilal
اسلام آباد: (سنو نیوز) وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگیولیٹری اتھارٹی (پیوارا) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے فری لانسرز اور نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر کے فری لانسرز کے لیے اےآئی اب نیا چیلنج بن گیا ہے۔

چیئرمین پیوارا بلال بن ثاقب نے اے آئی ایجنٹس کی مدد سے ایک ورک ماڈل تیار کر دیا،اپنے تجربہ کو بلال بن ثاقب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کر دیا۔

اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا کہ اس دور میں صرف پڑھنا کافی نہیں، اے آئی کے ساتھ کام بنا کر سیکھنا ہی کامیابی کا راستہ ہے،اے آئی کا خودکار عملدرآمد اور کام کرنے کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے۔

بلال بن ثاقب نے اے آئی ایجنٹس پر مشتمل ورچوئل ٹیم چلا کر نئے ورک ماڈل کی مثال قائم کر دی۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ اے آئی ایجنٹس کی ٹیم سی ای او ، انجینئر اور ڈیزائنر پر مشتمل ہے ، اے آئی ورکنگ ماڈل میں فیصلوں کی منظوری انسان کے ہاتھوں میں رہے گی، اے آئی ایجنٹس ایک دوسرے سے رابطہ، کام کی تقسیم اور مسائل کی نشاندہی بھی خود کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ورکنگ ماڈل میں جیسے جیسے کام کا دائرہ بڑھتا ہے، اے آئی ایجنٹس نئے وسائل اور ٹیم ممبرز کی ضرورت بھی خود بتاتے ہیں،اے آئی ایجنٹس کے اخراجات اور کامیابی کی شرح ریئل ٹائم میں مانیٹر کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل میپس میں سب سے بڑی اپ ڈیٹ کردی گئی

بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ 1.5 ٹریلین ڈالر کی عالمی فری لانسرز معیشت کو اے آئی ماڈل سے بڑا چیلنج درپیش ہو گا، ریسرچ، ایگزیکیوشن اور کوآرڈینیشن جیسے روایتی ہنر تیزی سے خودکار ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں بڑی کمپنیاں بڑے عملے سے نہیں، کم مگر باصلاحیت انسانی نگرانی اور اے آئی ورک فورس سے چلیں گی۔