بیوی نے جگر کا حصہ دے کر معروف کرکٹر کی جان بچا لی
سمی سنگھ کے مطابق ایک میچ کے بعد وہ شدید تھکن کے ساتھ گھر واپس آئے، اگلے روز انہیں اچانک تیز بخار ہوگیا جو کئی روز تک ختم نہ ہوا۔ آئرلینڈ میں ڈاکٹرز بیماری کی اصل وجہ معلوم نہ کرسکے اور انہیں اینٹی بائیوٹکس دی جاتی رہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں بھارت میں علاج کروانے کا فیصلہ کیا، جہاں ڈاکٹروں نے انکشاف کیا کہ مختلف ادویات کے باعث ان کا جگر تیزی سے کام کرنا چھوڑ رہا تھا۔
سمی سنگھ کے مطابق گڑگاؤں کے ایک اسپتال میں ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہوگئی اور وہ کوما میں چلے گئے۔ انہیں فوری طور پر جگر کے ڈونر کی ضرورت تھی، ایسے میں ان کی اہلیہ اگم دیپ نے آگے بڑھ کر اپنا جگر عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
سابق کرکٹر نے بتایا کہ انہیں بعد میں معلوم ہوا کہ وہ سرجری کے لیے دستیاب وقت ختم ہونے سے صرف تقریباً آدھے گھنٹے کے فاصلے پر تھے۔ زہریلے مادے جسم میں پھیل رہے تھے اور اگلا خطرہ دماغ میں خون بہنے کا تھا۔
سمی سنگھ کے مطابق ان کی اور اہلیہ دونوں کی سرجری ہوئی، چند روز بعد جب وہ باتھ روم گئے اور آئینے میں خود کو دیکھا تو اپنی حالت پہچان نہیں سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اب انہیں روزانہ ادویات استعمال کرنا پڑتی ہیں اور یہ سلسلہ ساری زندگی جاری رہے گا۔