45 سالہ حنا جاوید قتل کیس، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشافات
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق 45 سالہ حنا جاوید کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی پائی گئی جبکہ پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر بھی زخموں کے نشانات موجود تھے، مقتولہ کا پیریکارڈیم، یعنی دل کے گرد موجود جھلی، خون سے بھری ہوئی تھی۔
حنا جاوید کا پوسٹ مارٹم موت کے تقریباً 12 گھنٹے بعد ڈاکٹر ماریا خالد نے کیا۔ پوسٹ مارٹم کے دوران مقتولہ کے ڈی این اے سمیت مختلف نمونے حاصل کرکے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
ابتدائی رپورٹ میں موت کی واضح اور حتمی وجہ بیان نہیں کی گئی اور اس کے تعین کے لیے فرانزک تجزیے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں دفعہ 144 میں 30 روز کی توسیع
پولیس کی جانب سے پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر کو فراہم کی گئی ابتدائی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ مقتولہ کو مبینہ طور پر اس کے شوہر نے پھندا دے کر لٹکایا۔ تاہم اس دعوے اور موت کے اصل سبب کا حتمی تعین فرانزک اور مکمل پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں کیا جائے گا، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک تجزیے کے لیے حاصل کیے گئے نمونے لیڈی کانسٹیبل رافعہ تبسم نے وصول کیے۔
واضح رہے کہ حنا جاوید کے قتل کا مقدمہ تھانہ سول لائنز میں مقتولہ کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں درج ہے۔ پولیس نے مقدمے میں مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو گرفتار کر رکھا ہے جبکہ دونوں ملزمان تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد سامنے آنے کے بعد تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جائے گا اور حنا جاوید کی موت کے اصل اسباب کا تعین کیا جائے گا۔