خیبر پختونخوا حکومت کا 3 ماہ کیلیے عبوری بجٹ پیش کرنے پر غور
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بعض اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے پورا بجٹ پیش نہ کیا جائے۔ اراکین کا کہنا تھا کہ جب وفاق خیبرپختونخوا حکومت سے تعاون نہیں کر رہا تو صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون کیوں کرے؟۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اراکین نے کہا کہ پیپلزپارٹی بجٹ کے معاملے پر آصف علی زرداری جبکہ مسلم لیگ ن شہباز شریف اور نواز شریف سے ہدایات لیتی ہے، تو پی ٹی آئی اراکین کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے بجٹ پر مشاورت اور ہدایات کے لیے ملاقات کیوں نہیں کروائی جا رہی؟۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر نے دودھ، گھی، گھریلو اشیاء پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی
اجلاس میں بعض اراکین نے مؤقف اپنایا کہ آئین کا آرٹیکل 125 منتخب حکومت کو 3 ماہ کے لیے بجٹ پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس لیے صوبائی حکومت مختصر مدت کا بجٹ پیش کر سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں متعدد اراکین نے 3 ماہ کے بجٹ کی بجائے پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ ان اراکین کا کہنا تھا کہ پورا بجٹ پیش نہ کرنے سے وفاقی حکومت کو نہیں بلکہ خیبرپختونخوا حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 3 ماہ کے بجٹ سے متعلق پارٹی کی مرکزی قیادت اور قانونی ٹیم سے مشاورت کی جائے گی، جس کے بعد 3 ماہ یا پورے سال کا بجٹ پیش کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔