انہوں نے دونوں ممالک کے وفود کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شرکت وزیراعظم کی درخواست پر ممکن ہوئی، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔
اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران اسحاق ڈار نے بتایا کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی اسپیکر باقر قالیباف نے کی، دونوں وفود کے درمیان جامع اور تعمیری مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے، جن میں اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے بطور نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عمل میں فعال کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کے درمیان مؤثر رابطہ قائم رکھنے میں مدد دی، پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں گے تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن اور خوشحالی ممکن ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی وفد جے ڈی وینس کی سربراہی میں واپس روانہ
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیز فائر برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہی دیرپا امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔