نئے نظام کے تحت اب شہریوں کو بار بار ٹیسٹنگ سینٹرز کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ آن روڈ ٹیسٹ کے بعد فوری ورچوئل ڈرائیونگ لائسنس جاری کیا جائے گا۔
چیف ٹریفک آفیسر لاہور کے مطابق اس جدید نظام میں انٹرنیشنل لائسنس کے علاوہ تمام لائسنس ورچوئل کارڈ کی شکل میں جاری کیے جائیں گے۔ ٹریفک وارڈنز موقع پر ہی ون ایپ کے ذریعے شہریوں کو لائسنس جاری کرنے کے اہل ہوں گے، شہری بس اپنا ڈیٹا فراہم کریں گے اور فیس کی ادائیگی کے فوراً بعد لائسنس دستیاب ہو جائے گا۔
ڈاکٹر عطا الرحمن نے بتایا کہ مستقبل میں اس نظام کو مزید وسعت دی جائے گی اور 16 سال کی عمر کے نوجوان بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے، جس سے کم عمر شہری بھی قانونی طور پر ڈرائیونگ کر سکیں گے۔
واضح رہے کہ ورچوئل کارڈز کے نفاذ سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ حکومت کو سالانہ کروڑوں روپے کی بچت بھی ممکن ہوگی، شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے فوری رسائی ممکن ہونے سے فزیکل کارڈ رکھنے کی ضرورت بھی ختم ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرانسپورٹرز کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
صوبے بھر میں اس نئے لائسنسنگ سسٹم کے نفاذ کیلئے آئی جی پنجاب کو سمری بھیج دی گئی ہے، جلد ہی تمام شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اس اقدام سے شہریوں کی سہولت کے ساتھ ساتھ ٹریفک نظام میں شفافیت اور جدیدیت بھی آئے گی۔