چیف ٹریفک آفیسر لاہور ڈاکٹر اطہر وحید نے اس نظام کے نفاذ کے لیے تمام سرکل افسران کو آئی پیڈز فراہم کیے جن میں ون ایپ انسٹال ہے۔
سی ٹی او کے مطابق یہ ایپ ٹریفک وارڈنز کو ایک ہی کلک پر مختلف آپریشنل سروسز تک رسائی دے گی اور وہ موقع پر ہی مختلف کارروائیاں انجام دے سکیں گے۔ یہ جدید ایپ مختلف سرکاری اداروں کے ڈیٹا سے منسلک ہے جس کے ذریعے مختلف ریکارڈز کی فوری تصدیق ممکن ہوگی۔
ڈاکٹر اطہر وحید کا کہنا تھا کہ ون ایپ کے استعمال سے ہر ٹریفک خلاف ورزی باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بن جائے گی جسے ضرورت پڑنے پر ثبوت کے طور پر بھی پیش کیا جا سکے گا۔
نئے نظام کے تحت ٹریفک افسران موقع پر ہی شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور چوری شدہ گاڑیوں کی تصدیق کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ گاڑی کی ملکیت، فٹنس سرٹیفکیٹ اور روٹ پرمٹ بھی فوری طور پر چیک کیے جا سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: تعلیمی بورڈز میں نئی پالیسی نافذ
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ نظام تجاوزات اور ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر کارروائی میں بھی مدد دے گا۔ اس مربوط سسٹم کے ذریعے افسران ای چالان، ایف آئی آر کی حیثیت اور ڈرائیور کے مجرمانہ ریکارڈ کو بھی چیک کر سکیں گے۔
اسی دوران ون ایپ سسٹم سے منسلک ایک نئی الیکٹرک گاڑی نے مین بلیوارڈ گلبرگ سے اپنی ڈیوٹی شروع کر دی ہے۔ سی ٹی او کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور نئی وردی کے ساتھ ٹریفک پولیس شہریوں کو زیادہ شائستگی، احترام اور پیشہ ورانہ انداز میں خدمات فراہم کرے گی۔