خطرناک ہنٹا وائرس کا پھیلاؤ، 3 افراد ہلاک

Hantavirus Outbreak
فائل فوٹو
Updated | Published May, 8 2026 |
ایمسٹرڈیم:(ویب ڈیسک) ڈچ کروز شپ پر ہنٹا وائرس کے خوفناک پھیلاؤ نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی، وائرس سے متاثر ہو کر تین افراد ہلاک ہو گئے جبکہ بقیہ مسافروں کی نگرانی کی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کروز شپ میں 28 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 150 مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے، جس کے باعث وائرس کے ممکنہ بین الاقوامی پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

24 اپریل کو بحراوقیانوس میں واقع جزیرے سینٹ ہیلینا پر درجنوں مسافر جہاز سے اترے تھے، جس کے بعد مقامی حکام نے فوری طبی نگرانی اور اسکریننگ کا عمل شروع کر دیا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کے انسان سے انسان میں منتقل ہونے کے ابتدائی شواہد سامنے آئے ہیں، جس نے طبی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات کسی عالمی وبا کے آغاز کی نشاندہی نہیں کرتے، تاہم تمام ممالک کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ہنٹا وائرس عموماً متاثرہ شخص کے قریبی اور انتہائی ذاتی رابطے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے،وائرس بخار، شدید کمزوری، سانس لینے میں دشواری اور جسمانی درد جیسی علامات پیدا کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کیلئے حفاظتی اقدامات ناگزیر قرار

 

 

 

شہریوں کو غیر ضروری خوف سے بچنے اور صرف مستند معلومات پر اعتماد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے