سندھ انفیکشن ڈیزیزز ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کے مطابق مریض کو انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا جہاں اس کے جسم سے خون بہنے کی علامات ظاہر ہو رہی تھیں۔
ڈاکٹرز نے فوری طور پر مریض کو آئی سی یو میں داخل کر کے سخت آئسولیشن میں علاج شروع کیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق متاثرہ نوجوان مویشی فارم پر کام کرتا تھا اور اسے تیز بخار کی شکایت کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا۔ طبی ماہرین نے علامات کی بنیاد پر کانگو وائرس کا شبہ ظاہر کیا جس کے بعد ٹیسٹ کے لیے نمونے بھیجے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈومیسائل سسٹم ڈیجیٹل، فیس میں بڑا اضافہ
ٹیسٹ رپورٹس میں وائرس کی تصدیق ہونے پر مریض کو مزید علاج کے لیے مخصوص آئسولیشن یونٹ میں منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔
ماہرین کے مطابق کانگو وائرس ایک خطرناک مرض ہے جو عموماً متاثرہ چیچڑ کے کاٹنے یا جانوروں کے خون اور بافتوں سے رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے جبکہ انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ اس بیماری کی شرح اموات 10 سے 40 فیصد تک ہو سکتی ہے۔