اس اقدام کا مقصد آنے والی نسل کو تمباکو نوشی جیسی مضر عادت سے مکمل طور پر محفوظ بنانا ہے، جسے ماہرین نے سگریٹ فری نسل کی جانب بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔
حکومتی منصوبے کے تحت یکم جنوری 2009 کے بعد پیدا ہونے والے افراد مستقبل میں کبھی بھی سگریٹ یا دیگر تمباکو مصنوعات خریدنے کے اہل نہیں ہوں گے۔ اس قانون کو باقاعدہ منظوری ملنے کے بعد اب اس کے نفاذ کی راہ ہموار ہو چکی ہے، اور اسے جلد عملی شکل دی جائے گی۔
یہ بل پہلی بار 2024 میں پیش کیا گیا تھا، جس پر تفصیلی غور و خوض کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اتفاق رائے سے منظوری دی۔ اس قانون کے تحت حکومت کو تمباکو، ویپنگ اور نکوٹین مصنوعات کے حوالے سے مزید سخت ضابطے نافذ کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے، جن میں مصنوعات کے ذائقوں، پیکجنگ اور عوامی مقامات پر پابندیوں سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں سگریٹ نوشی ہر سال تقریباً 80 ہزار افراد کی جان لے لیتی ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں دل کے امراض، فالج، دمہ، ذیابیطس اور دیگر خطرناک بیماریوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ صحت کے نظام پر بھی اس کا بھاری مالی بوجھ پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایچ آئی وی کے چھ سو سے زائد کیسز رپورٹ
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون نہ صرف عوامی صحت کو بہتر بنائے گا بلکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور صحت مند مستقبل فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔